پاک افغان تعلقات ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر آن کھڑے ہوئے ہیں۔ سرحد پار سے 8 ڈرونز کا پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونا اور جواب میں پاکستان کی جانب سے افغانستان میں 10 مخصوص لانچنگ و اسٹوریج مقامات کو نشانہ بنانا واضح کرتا ہے کہ سکیورٹی بحران محض زبانی تکرار یا رسمی فائرنگ سے نکل کر باقاعدہ عسکری ردعمل کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال نے نہ صرف دوطرفہ سلامتی بلکہ پورے خطے کے امن پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
دوحہ معاہدہ
سن 2020 میں امریکہ اور افغان طالبان کے مابین طے پانے والے تاریخی دوحہ معاہدے کی سب سے بنیادی شق یہ تھی کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی یا عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
آج پیدا ہونے والی سنگین صورتحال سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دوحہ معاہدے کی روح کو سب سے زیادہ نقصان کابل انتظامیہ کی عملی ناکامی یا چشم پوشی سے پہنچا ہے۔ جب پاکستان کے دفاعی نظام نے طورخم اور کوہاٹ کے پہاڑی علاقوں کے قریب دراندازی کرنے والے ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کیا، تو اس نے اس امر کو قطعی طور پر ثابت کر دیا کہ افغان حدود سے منظم تخریب کاری اب بھی جاری ہے۔
عسکریت پسندوں کے تانے بانے
پاکستان کے قبائلی اور بندوبستی اضلاع، بالخصوص ہنگو اور کوہاٹ میں حالیہ دنوں میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے واقعات کے شواہد براہ راست افغان سرحد کے پار جا ملتے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی قیادت اور جنگجوؤں کو افغان حدود میں میسر کھلی پناہ گاہیں اور لاجسٹک معاونت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔
دوسری جانب داعش خراسان کے سربراہ ثناء اللہ غافری کی افغانستان کے اندر مسلسل موجودگی اور نیٹ ورک کی سرگرمیاں اس امر پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہیں کہ افغانستان ایک بار پھر عالمی و علاقائی عسکریت پسندوں کا محفوظ گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوحہ معاہدے میں دنیا کو دی گئی تحریری ضمانتوں کے باوجود ان خطرناک نیٹ ورکس کو کس کی آشیرباد حاصل ہے؟
خودمختاری اور حقِ دفاع
افغان حکومت پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ٹارگٹڈ کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دے کر پلہ جھاڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ تاہم خودمختاری کا اصول یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔ اگر ایک ریاست اپنی سرزمین سے پڑوسی ملک کے خلاف جدید ہتھیاروں، عسکریت پسندوں اور ڈرونز کے مسلسل استعمال کو روکنے میں ناکام رہے تو متاثرہ ملک کے پاس اپنے شہریوں اور سالمیت کے تحفظ کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔ پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ جوابی کارروائیاں محض عسکری لانچنگ پیڈز تک محدود تھیں اور ان کا مقصد کسی بھی طور افغان عوام کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔
موجودہ بحران کا حتمی نتیجہ صرف ڈرونز مار گرانے یا جوابی اہداف کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں رہے گا۔ اگر کابل انتظامیہ نے اپنی سرزمین کے غلط استعمال سے متعلق پاکستان کے ٹھوس سکیورٹی تحفظات پر قابلِ تصدیق اور سخت اقدامات نہ کیے، تو یہ سرحدی جھڑپیں وسیع تر تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہیں، جس کا براہِ راست خمیازہ سرحد کے دونوں اطراف آباد عام شہریوں کو بھگتنا پڑے گا۔
پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے کہ افغان حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احساس کرے، کالعدم گروہوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کرے اور اسلام آباد کے ساتھ سنجیدہ سکیورٹی مکالمے کو عملی جامہ پہنائے۔
دیکھیے: داعش خراسان کا خطرہ: افغان سرزمین سے علاقائی سلامتی کو درپیش چیلنجز