پاکستان نے علاقائی روابط کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑی تزویراتی پیش رفت کرتے ہوئے ‘پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور’ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ نئی تجارتی راہداری گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کو ایرانی سرزمین کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں، بالخصوص ازبکستان سے جوڑتی ہے۔
اس راہداری کا آغاز 13 اپریل 2026 کو کیا گیا، جو اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ ایران۔ امریکہ مذاکرات کے محض 24 سے 48 گھنٹوں بعد عمل میں آیا ہے۔ افتتاحی تقریب کے بعد منجمد گوشت سے لدے ریفریجریٹڈ ٹرکوں کا پہلا تجارتی قافلہ کراچی اور گوادر سے تاشقند (ازبکستان) کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔ یہ پورا نظام تفتان، رمدان اور سوست کے سرحدی مقامات پر بین الاقوامی ٹرانزٹ سسٹم کے تحت کام کرے گا۔
مذاکرات اور جنگ بندی کا تناظر
سفارتی ماہرین اس راہداری کے آغاز کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ بندی اور پاکستان کے ثالثی کردار سے جوڑ رہے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب اسلام آباد واشنگٹن اور تہران کے درمیان نازک مذاکرات کی سہولت کاری کر رہا ہے، اس کوریڈور کا فعال ہونا پاک ایران اقتصادی تعلقات میں گہرائی اور اعتماد سازی کے ایک اہم اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تزویراتی اور معاشی اہمیت
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کی خبریں زیر گردش ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان ایک طرف تہران کے ساتھ مضبوط دوطرفہ معاشی تعلقات استوار کر رہا ہے اور دوسری طرف واشنگٹن کے ساتھ غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کر کے ‘تزویراتی توازن’ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ راہداری ایران کو معاشی شہہ رگ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو وسطی ایشیا تک سستا اور محفوظ زمینی راستہ بھی فراہم کرے گی، جس سے پاکستانی برآمدات بالخصوص خوراک اور ٹیکسٹائل کی صنعت کو بڑا فروغ ملے گا۔