پاکستان سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی زبردستی وطن واپسی کے سلسلے میں تیزی آ گئی ہے، جہاں تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک ہی روز میں 5 ہزار 363 افغان پناہ گزینوں کو سرحد پار افغانستان منتقل کر دیا گیا ہے۔ افغان حکام کی قائم کردہ کمیٹی برائے مہاجرین کے مسائل کے حل نے اس غیر معمولی بے دخلی کی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔
افغان مہاجرین کے مسائل سے نمٹنے کے لیے قائم عالی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز واپس بھیجے جانے والے 5 ہزار 363 افراد میں سے سب سے بڑی تعداد صوبہ ننگرہار سے متصل تورخم بارڈر کے ذریعے منتقل کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تورخم کے راستے 4 ہزار 469 افراد جبکہ صوبہ قندھار میں واقع اسپن بولدک بارڈر کے ذریعے 562 افغان مہاجرین کو افغانستان واپس بھیجا گیا۔ اس کے علاوہ دیگر سرحدی راستوں سے بھی افغان شہریوں کی واپسی عمل میں لائی گئی۔
عالی کمیشن نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ واپس آنے والے مہاجرین کے باقاعدہ اندراج اور رجسٹریشن کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ انہیں فوری طور پر ضروری بشری امداد اور خوراک بھی فراہم کی گئی۔ کمیشن کے مطابق، ابتدائی سہولیات اور ٹرانسپورٹ کے انتظامات مکمل ہونے کے بعد ان خاندانوں کو افغانستان میں ان کے آبائی علاقوں کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اس سے ایک روز قبل بھی پاکستان سے 4 ہزار 685 افغان مہاجرین کو زبردستی بے دخل کیا گیا تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرحدی راستوں پر واپسی کا دباؤ مسلسل برقرار ہے۔