اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور زراعت کے شعبے کو عالمی سپلائی چین کے جھٹکوں سے بچانے کے لیے وسطی ایشیائی ممالک سے کھاد کی درآمد کے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ منگل کے روز اسلام آباد میں کھاد کے ذخائر اور فوڈ سیکیورٹی کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے حکام کو حکم دیا کہ وہ خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں سپلائی چین متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر فوری طور پر متبادل منصوبہ بندی کریں۔
وزیراعظم آفس سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، وزیراعظم نے مقامی سطح پر کھاد کی پیداوار بڑھانے کے لیے نئے پلانٹس لگانے کے منصوبوں پر کام تیز کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو کھاد کی بروقت فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ آنے والی خریف کی فصلوں، بشمول چاول، کپاس اور مکئی کی پیداوار متاثر نہ ہو۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مقامی کارخانوں کو گیس کی فراہمی جاری ہے اور ملک میں کھاد کے مناسب ذخائر موجود ہیں، تاہم عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور سپلائی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے قبل از وقت اقدامات ضروری ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو کھاد کی مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اس سے قبل وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین نے بھی واضح کیا تھا کہ اگرچہ پاکستان اپنی ضرورت کی یوریا کا بڑا حصہ مقامی طور پر پیدا کرتا ہے، لیکن علاقائی کشیدگی اور بین الاقوامی منڈی میں قیمتوں کا فرق اسمگلنگ کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔ حکومت کا مقصد وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی روابط کو مضبوط بنا کر نہ صرف درآمدی لاگت کو کم کرنا ہے بلکہ خلیجی ممالک پر انحصار کم کر کے زراعتی شعبے کو استحکام فراہم کرنا ہے۔