ریفارم یو کے کی رہنما لیلا کننگھم نے ایک مجرمانہ واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم برطانوی وزارتِ انصاف کے سرکاری اعداد و شمار ان کے نسل پرستانہ بیانیے کی نفی کر رہے ہیں

March 4, 2026

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے پیشِ نظر سعودی عرب نے پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل بحری راستے اور یانبو بندرگاہ کے استعمال کی یقین دہانی کرا دی ہے

March 4, 2026

بین الاقوامی اداروں کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے محرکات کو نظرانداز کرنا اور محض یک طرفہ بیانیے کو فروغ دینا خطے میں امن کی کوششوں کو ثبوتاژ کرنے کے مترادف ہے

March 4, 2026

انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی آمادگی کے باوجود اس پر جنگ مسلط کی گئی، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خطے میں طاقت کا توازن مزید بگڑتا ہے تو اس کے نتائج جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جائیں گے اور پاکستان کو گھیرنے کی کوششیں تیز ہو سکتی ہیں۔

March 4, 2026

افغانستان میں سال 2025 کے دوران طالبان کی جانب سے سرعام کوڑے مارنے کی سزاؤں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جسے اقوامِ متحدہ نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے

March 4, 2026

سابق امریکی دفاعی مشیر ڈگلس میک گریگر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کے لیے بھارتی بندرگاہوں کو بطور لاجسٹک بیس استعمال کر رہی ہے

March 4, 2026

دوبارہ حد بندی: بڑھتے تناؤ کے درمیان پاکستان کے اسٹریٹجیک چوراہے

With India escalating strikes and incursions, Pakistan faces tough choices—redrawing the line could reshape South Asia’s strategic balance.
Redrawing the Line: Pakistan’s Strategic Crossroads Amid Rising Tensions

Residents gather as police personnel inspect the site where an alleged drone was shot down in Karachi on May 8, 2025. Pakistan's army said it shot down 25 Indian drones on May 8, a day after the worst violence between the nuclear-armed rivals in two decades [Rizwan Tabassam/AFP]

May 8, 2025

سوال یہ ہے: جب کسی ملک کی سرخ لکیروں کو پار کیا جائے تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ جواب دینا چاہیے یا پیچھے ہٹ جائے؟

پاکستان اس وقت ایک خطرناک اسٹریٹجک دباؤ کا شکار ہے۔ بھارتی جنگی طیاروں نے آزاد کشمیر اور پاکستان کے اندرونی حصوں میں جدید اسٹینڈ آف میزائل حملے کیے ہیں۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ اس نے بین الاقوامی سرحد کو عبور نہیں کیا، بلکہ “غیر فوجی انفراسٹرکچر” کو نشانہ بنایا، جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ جواب میں، پاکستان کی فضائی دفاعی نظام نے ایک اہم کامیابی حاصل کی اور پانچ بھارتی جنگی طیاروں کو گرایا، جن میں ایک جدید ترین رافال طیارہ اور دو سو-30 ایم کے آئی طیارے شامل تھے۔ یہ نقصان بھارت کو تقریباً 1.2 ارب ڈالر کا پڑا۔

بھارت نے جوابی کارروائی میں شدت اختیار کرتے ہوئے بدھ کے روز، بھارتی افواج نے پاکستانی علاقوں میں متعدد ڈرونز کو مار گرایا، جن میں راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، شیخوپورہ، گجرات، چکوال، عمرکوٹ، میرپور سندھ، گھوٹکی، اٹک، چولستان اور تانک شامل ہیں۔ یہ وسیع جغرافیائی پھیلاؤ اہم سوالات کو جنم دیتا ہے: کیا یہ محض جاسوسی مشن ہیں یا مستقبل میں براہ راست جارحیت کی علامت؟

پاکستان کے پاس کیا اختیارات ہیں؟

  • جوابی کارروائی: اگر پاکستان بھارتی پنجاب یا راجستھان پر حملہ کرے تو یہ اسٹریٹجک توازن بحال کر سکتا ہے، لیکن یہ پڑوسی ایٹمی ممالک کے درمیان بڑی جنگ کا خطرہ بھی پیدا کرتا ہے۔
  • خاموشی: اگر پاکستان خاموش رہے تو اسے کمزوری سمجھا جا سکتا ہے، جس سے مستقبل میں بھارت کی جانب سے مزید حملوں کو حوصلہ ملے گا۔

اس بحران کا اصل مسئلہ صرف جغرافیائی لکیروں سے زیادہ ہے۔ یہ ڈیٹرنس (روک تھام) کی ساکھ، عوامی توقعات اور قومی عزم کی جنگ ہے۔

عالمی دباؤ اور پاکستان کا ردعمل

پاکستان نے اب تک بھارت پر سرکاری طور پر دہشت گرد کیمپس کی حمایت کا الزام نہیں لگایا، جس کی وجہ سے بین الاقوامی قانون کے تحت جوابی کارروائی کا جواز محدود ہو گیا ہے۔ بھارت اپنے آپ کو “پابندی اور درستگی” کا دعویٰ کرتا ہوا پیش کر رہا ہے، جبکہ پاکستان کو ایک کونے میں دھکیل دیا گیا ہے۔

اس صورتحال میں، پاکستان ایک حکمت عملی سے بھرپور جواب پر غور کر رہا ہے۔ سیکورٹی حکام سفارتی، فوجی اور نفسیاتی محاذوں پر ردعمل کو منظم کر رہے ہیں۔ تاہم، عوامی غصہ اور فوج کی ساکھ کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ توازن برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

فوجی رہنماؤں کے خیالات

میجر جنرل انعام نے کہا کہ پاکستان کا دفاع “بہت سوچا سمجھا” تھا، جبکہ بھارت کا ردعمل “جلدبازی پر مبنی” تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ رویہ دفاعی ہے، لیکن جوابی کارروائی “انتہائی تکلیف دہ، حیرت انگیز اور غیر متناسب” ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان روایتی اور غیر روایتی دونوں طرح کے حملوں کا جواب دے سکتا ہے۔

گروپ کیپٹن (ر) حالی نے کہا کہ پاکستان کی فوجی صلاحیت پر اعتماد ہی وہ وجہ ہے جس کی بنا پر پانچ بھارتی طیارے گرائے گئے۔ انہوں نے کہا:
“بھارت نے ایک مثال قائم کر دی ہے۔ اب دنیا پاکستان پر انگلی نہیں اٹھا سکتی۔ ہم ایک سنجیدہ قوم ہیں — مودی کی طرح نہیں۔ ہمارے پاس ایٹمی دوسرا حملہ کرنے کی صلاحیت بھی ہے، اور اگر بھارت کوئی جارحیت کرے گا تو پاکستان جواب دے گا۔”

ایک سابق ایئر فورس افسر نے صبر اور پاکستان کی جدید فوجی حکمت عملی پر اعتماد کرنے پر زور دیا:
“مایوس نہ ہوں۔ جنگ اب پیچیدہ ہو چکی ہے — نیٹ ورک سنٹرک وارفیئر، الیکٹرانک جنگ اور سائبر ڈائمنشنز شامل ہیں۔ پاکستان کے پاس یہ صلاحیتیں موجود ہیں اور وہ انہیں استعمال کر رہا ہے۔ بھارت پاکستان کو جلدی یا ادھورا جواب دینے پر اکسا رہا ہے تاکہ وہ پانچ طیاروں کے گرنے کا بدلہ لے سکے۔ پی اے ایف کو پیشہ ورانہ طریقے سے جواب دینے دیں۔”

آخری سوال

یہ بحران صرف فضائی حملوں یا ڈرونز تک محدود نہیں ہے۔ یہ تصور، روک تھام اور خودمختاری کی جنگ ہے۔

دنیا کی نظریں اس پر ہیں۔
کیا پاکستان کھینچی گئی ان لکیروں پر قائم رہے گا — یا آگ سے نئی لکیریں کھینچے گا؟

متعلقہ مضامین

ریفارم یو کے کی رہنما لیلا کننگھم نے ایک مجرمانہ واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم برطانوی وزارتِ انصاف کے سرکاری اعداد و شمار ان کے نسل پرستانہ بیانیے کی نفی کر رہے ہیں

March 4, 2026

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے پیشِ نظر سعودی عرب نے پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل بحری راستے اور یانبو بندرگاہ کے استعمال کی یقین دہانی کرا دی ہے

March 4, 2026

بین الاقوامی اداروں کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے محرکات کو نظرانداز کرنا اور محض یک طرفہ بیانیے کو فروغ دینا خطے میں امن کی کوششوں کو ثبوتاژ کرنے کے مترادف ہے

March 4, 2026

انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی آمادگی کے باوجود اس پر جنگ مسلط کی گئی، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خطے میں طاقت کا توازن مزید بگڑتا ہے تو اس کے نتائج جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جائیں گے اور پاکستان کو گھیرنے کی کوششیں تیز ہو سکتی ہیں۔

March 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *