اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کے خلاف ہونے والے جرائم کے احتساب کے حوالے سے ایک اہم اور تاریخی قرارداد کا مسودہ پیش کر دیا ہے۔ یہ قرارداد پاکستان اور ڈنمارک نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے، جسے عالمی ادارے کے ریکارڈ 150 سے زائد رکن ممالک کی جانب سے شریک اسپانسر اور تائید حاصل ہوئی ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے ڈنمارک کے ساتھ اس اہم شراکت داری کو سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک سلامتی کونسل میں پیس آپریشنز ڈو (امن مشنز کی جوڑی) کے طور پر کام کر رہے ہیں تاکہ عالمی امن و سلامتی کے اس اہم ترین آلے پر کونسل کی توجہ برقرار رکھی جا سکے۔
پاکستان کی لازوال قربانیاں
سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں امن دستوں کی قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہائیوں کے دوران اقوام متحدہ کے پرچم تلے فرائض انجام دیتے ہوئے تقریباً 4,500 امن دستوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، جن میں 183 پاکستانی سپاہی بھی شامل ہیں۔
Statement by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad,
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) June 23, 2026
Permanent Representative of Pakistan,
While Introducing the Draft Resolution on Accountability for Crimes Against Peacekeepers at the UN Security Council
(23 June 2026)
*****
Madam President,
Together with Denmark, Pakistan has the… pic.twitter.com/TeWuhAERiI
انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز میں سب سے زیادہ اور طویل ترین خدمات انجام دینے والے ممالک میں شامل ہے، جس کے 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد اہلکار اب تک عالمی امن کے لیے کام کر چکے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان ان قربانیوں کی انسانی قیمت سے بخوبی واقف ہے، اسی لیے امن فوجیوں کے تحفظ کو صرف اور صرف سخت احتسابی عمل کے ذریعے ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
عملی اقدامات کا تقاضا
پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کو مطلع کیا کہ مختلف مشنز میں امن فوجیوں پر ہونے والے حملوں کی تعداد اور ان کی نوعیت میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور مجرموں کا احتساب نہ ہونے کے برابر ہے۔
انہوں نے کہا کہ محض مذمتی بیانات اور تعزیتی پیغامات اب کافی نہیں ہیں، بلکہ کونسل کو یہ دیکھنا ہو گا کہ حملوں کے بعد تحقیقات کہاں تک پہنچیں، مجرموں کی نشاندہی ہوئی یا نہیں اور کیا انصاف کے تقاضے پورے کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث عناصر کو کسی صورت رعایت نہیں ملنی چاہیے اور استثنیٰ کے کلچر کا خاتمہ اب وقت کی اہم ضرورت ہے۔
قرارداد کے عملی اقدامات
پیش کی گئی قرارداد کے حوالے سے سفیر عاصم افتخار نے بتایا کہ اس مسودے میں موجودہ احتسابی نظام کے خلا کو پُر کرنے کے لیے عملی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ قرارداد کے تحت اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ امن فوجیوں پر تشدد اور ان کے قتل کے کیسز میں ہونے والی تحقیقات اور قانونی کارروائی کی صورتحال پر سالانہ بنیادوں پر سلامتی کونسل کو رپورٹ پیش کریں۔
اس کے علاوہ سیکریٹری جنرل کو 120 دنوں کے اندر احتسابی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے متبادل تجاویز فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ قرارداد کے ذریعے سیکریٹریٹ میں ایک سینئر فوکل پرسن بھی نامزد کیا جائے گا جو میزبان ممالک اور فوج بھیجنے والے ممالک کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور موثر رابطے قائم کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سلامتی کونسل اس متوازن اور قابلِ عمل قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرے گی۔
دیکھیے: سلامتی کونسل: پاکستان کا یوکرین میں فوری جنگ بندی اور سفارتی عمل کی بحالی کا مطالبہ