اسلام آباد: سوشل میڈیا پر زیر گردش ایک بیان میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایران کے ساتھ انٹیلیجنس روابط کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے روابط کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان بطور ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ سفارتی اور سیکیورٹی سطح پر رابطے رکھتا ہے، جو خطے کی روایتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت میں کردار ادا کیا۔
FWIW:
— Michael Kugelman (@MichaelKugelman) April 19, 2026
-As neighbor & friend, naturally Munir would have close ties w/intel folks in Iran. Doesn’t seem like a revelation.
-Unclear why US should see his Iran intel ties as a “red flag.” If anything, US now sees this as an asset, given Pak’s mediation role. https://t.co/yxNdEunJxq
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، اور دونوں ممالک کے ساتھ اس کے روابط کو سفارتی عمل میں ایک اثاثہ سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب بعض رپورٹس میں امریکی انٹیلیجنس حلقوں کے اندر اس حوالے سے مختلف آراء کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں کچھ حکام نے ان روابط کو خدشات سے جوڑا، تاہم یہ مؤقف یکساں نہیں اور اس پر واضح سرکاری پالیسی سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کی ایران تک رسائی اور رابطے ہی اسے ایک مؤثر ثالث بناتے ہیں، اور اسی بنیاد پر واشنگٹن اور تہران دونوں اسلام آباد پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے روابط کو محض “ریڈ فلیگ” قرار دینا زمینی حقائق کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان پاکستان کی سفارتی کوششیں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں، اور آئندہ مذاکرات کے نتائج خطے کی صورتحال پر اہم اثر ڈال سکتے ہیں۔