تہران: امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات سے قبل ایران کے متضاد اشاروں نے امن عمل پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے، ایک جانب تہران کی جانب سے سخت اور جارحانہ بیانات سامنے آ رہے ہیں جبکہ دوسری جانب اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے لیے اپنے وفد کی شرکت پر تاحال کوئی واضح مؤقف نہیں دیا گیا۔
ایرانی صدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے لیے وعدوں کی پاسداری ضروری ہے، تاہم امریکی حکام کے متضاد اور غیر تعمیری بیانات یہ تاثر دیتے ہیں کہ واشنگٹن ایران سے “سرنڈر” چاہتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران دباؤ یا طاقت کے آگے نہیں جھکے گا۔
Honoring commitments is the basis of meaningful dialogue. Deep historical mistrust in Iran toward U.S. gov conduct remains, while unconstructive & contradictory signals from American officials carry a bitter message; they seek Iran's surrender. Iranians do not submit to force.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) April 20, 2026
یہ سخت مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں ایران کے جوہری پروگرام پر سخت ردعمل دیا اور ممکنہ “رجیم چینج” کا بھی ذکر کیا، جسے مبصرین کشیدگی میں اضافے کا باعث قرار دے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے میڈیا پر بھی تنقید کرتے ہوئے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے ایران کے مستقبل سے متعلق بیانات دیے۔
ذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے اعلیٰ سطحی وفد کی اسلام آباد آمد متوقع ہے اور مذاکرات کے اگلے مرحلے کی تیاریاں جاری ہیں، تاہم ایران کی جانب سے تاحال اس عمل میں شرکت یا وفد بھیجنے سے متعلق کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ مبہم رویہ سفارتی حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے وہ مذاکرات سے قبل اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے، تاہم اس سے امن عمل میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، اور اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم دونوں جانب سے سخت بیانات اور غیر واضح مؤقف اس عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔