ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے محتاط انداز میں پرامید ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایک ماہ کے دوران ایران کے دو دورے مثبت پیشرفت کی علامت ہیں۔
رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایران کے دو دورے مثبت رہے ہیں، تاہم پاکستان اس معاملے میں محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بعض طاقت ور عناصر اب بھی تنازع کے حل کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں یہ کشیدگی ان کے مفاد میں ہے۔ تاہم انہوں نے ان عناصر کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت یا امریکا کی حمایت سے متعلق تفصیلات بتائیں۔
ایران کی شمولیت
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے میں نئے ارکان کی شمولیت کی گنجائش موجود ہے۔ ایران سمیت کوئی بھی ملک اس معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ وہ مشترکہ دفاع اور علاقائی امن کے وژن سے اتفاق کرے۔
ان کے مطابق معاہدے کا متن کسی نئے رکن کی شمولیت پر پابندی عائد نہیں کرتا، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی سیاسی قیادت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو دفاعی تعاون فراہم کرنا پاکستان کے عزم کا حصہ ہے۔ پاکستان مکہ اور مدینہ سمیت حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، تاہم پاکستان یمن کے اندرونی تنازع کا فریق نہیں بنے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی مزید تعیناتی سے متعلق سوال پر کہا کہ اس کا انحصار حالات اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے فیصلے پر ہوگا۔
کے پی میں آپریشنز
خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سے متعلق سوال پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کرتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی رفتار اور دائرہ مزید بڑھایا جائے گا۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت پر دہشت گردی کی روک تھام میں ناکامی اور وفاق سے عدم تعاون کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم پاکستان تحریک انصاف نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔





