یہ تو ہم ناولوں اور فلموں میں سنا کرتے تھے کہ دیوا کی عدالت میں قانون بھی ہمارا، انصاف بھی ہمارا اور فیصلہ بھی ہمارا۔ تب یہ کسی ظالم کردار کا مکالمہ تھا۔ آج ملتان اور اسلام آباد میں ملزمان کی ہلاکت کی خبریں پڑھ کر یہی جملہ ایک سوال بن کر سامنے آتا ہے: کیا ہمارے ہاں بھی تفتیش، الزام اور سزا کا اختیار عملاً ایک ہی جگہ سمٹ رہا ہے؟ اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں، واقعات کی ساخت دیکھ کر ملے گا۔
ملتان واقعہ
ملتان میں پندرہ سالہ یتیم وسیم عباس کو گاڑی تلے کچل دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق الزام یہ ہے کہ اس نے جبری مشقت سے انکار کیا تھا، اور نامزد ملزم ٹھیکیدار توقیر نذیر تھا۔ بعد میں سی سی ڈی نے بتایا کہ ملزم حراست سے فرار ہوا اور بہاولپور کے قریب اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے مارا گیا۔ یہاں تک کہانی صاف نظر آتی ہے، مگر اس کے اندر کے حصے بکھرے ہوئے ہیں۔
کسی رپورٹ میں فرار مقامی پولیس کی تحویل سے بتایا گیا، کسی میں سی سی ڈی ملتان کی حراست سے، اور ایک میں چار روزہ جسمانی ریمانڈ کے دوران۔ یہ فرق معمولی لگتا ہے، لیکن تجزیے کی نظر سے یہ اہم ہے، کیونکہ جب کسی واقعے کا واحد ماخذ ایک ہی فریق ہو تو تفصیلات میں تضاد اس روایت کی تصدیق کو مشکل بنا دیتا ہے۔
ہجوم، سیاست
اس کیس میں ملزم کے خلاف غصہ صرف سڑک تک محدود نہیں رہا۔ عدالت میں پیشی پر وکلاء نے بھی اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا، اور ایک رپورٹ کے مطابق سی سی ڈی کا بیان صوبائی وزیرِ اطلاعات کے سوشل میڈیا بیان کے بعد آیا۔ ان تینوں باتوں کو جوڑ کر دیکھیں تو ایک رجحان ابھرتا ہے: جب جرم کی نوعیت ہولناک ہو تو عوام، سیاسی قیادت اور پولیس ایک ہی سمت میں دباؤ ڈالنے لگتے ہیں۔ اس دباؤ میں سب سے پہلے جو چیز پیچھے رہ جاتی ہے وہ مقدمہ ہے۔
اسلام آباد کیس
اسلام آباد میں لائبہ اعجاز کے مبینہ فراڈ کیس کے ملزم نعمان کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ اسے برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ دو موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کر دی اور وہ ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ یہ کیس ملتان سے بالکل مختلف ہے، جان لینے کا نہیں بلکہ مالی فراڈ کا، مگر جائے وقوعہ کی ترتیب وہی ہے۔ اور یہاں ایک اور تجزیاتی پہلو کھلتا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم تین جعلی اکاؤنٹس بنا کر تین مختلف کردار خود ادا کرتا تھا، جبکہ فاطمہ سرور اور عائزہ سمیت دو دیگر افراد گرفتار ہیں۔ اگر مرکزی ملزم زندہ ہوتا تو اس سے یہ جاننا ممکن تھا کہ باقی افراد کا کردار کیا تھا اور ساتھی کون تھے جنہوں نے فائرنگ کی۔ اس کی موت نے اس تفتیشی راستے کو بند کر دیا۔ یعنی ہلاکت صرف ایک شخص کی نہیں، ایک پوری شہادتی کڑی کی بھی ہے۔
دہرائی جانے والی کہانی
اب ان دونوں واقعات کو ایک بڑے منظر میں رکھیں تو یکسانیت زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ لاہور کے علاقے کاہنہ میں پولیس کے مطابق زیرِ حراست دو ملزم ریکوری کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کے حملے میں مارے گئے۔ فیصل آباد میں سی سی ڈی نے بتایا کہ ساتھی ملزم کو چھڑانے کے لیے فائرنگ کر کے فرار ہو گئے۔
لاہور ہی میں مختلف ڈویژنوں کی حراست میں موجود پانچ منشیات فروش ایک ہی کارروائی میں مارے گئے۔ ہر بار حراست، ہر بار برآمدگی یا فرار، ہر بار نامعلوم ساتھی، اور ہر بار اہلکاروں کا محفوظ رہنا۔ اتنی بار دہرائی جانے والی کہانی ایک اتفاق نہیں رہتی، ایک قابلِ جانچ نمونہ بن جاتی ہے، اور نمونے کی جانچ کا مطلب کسی پر الزام لگانا نہیں بلکہ اعداد، ریکارڈ اور شواہد مانگنا ہے۔
طرزِ عمل کی منطق
دوسرا رخ بھی سنجیدہ ہے۔ ان مقابلوں کے حامی دلیل دیتے ہیں کہ ہمارے ہاں مقدمے برسوں چلتے ہیں، گواہ خوفزدہ ہوتے ہیں، تفتیش کمزور ہوتی ہے اور بااثر ملزم رہا ہو جاتے ہیں۔ اس پس منظر میں پولیس کا یہ مؤقف کہ سنگین جرائم میں فوری ردِعمل ضروری ہے، عوام کی ایک بڑی تعداد کو قابلِ فہم لگتا ہے۔
مگر یہی دلیل اپنی کمزوری بھی ساتھ لاتی ہے۔ اگر مسئلہ عدالتی سست روی اور کمزور استغاثہ ہے تو علاج بھی وہیں ہونا چاہیے۔ جو طریقہ نتیجہ تو فوراً دیتا ہے مگر اسے جانچنے کا کوئی راستہ نہیں چھوڑتا، وہ ایک مرض کا علاج کر کے دوسرا مرض پیدا کر دیتا ہے۔
تحقیقی خلا
جانچ کا یہ خلا اس وقت سب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے جب خاندان اس پر اعتراض کریں۔ ملتان ہی کے ایک اور واقعے میں مقتول کے گھر والوں نے سی پی او کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اسے قتل کر کے مقابلے کا رنگ دیا گیا۔
یہ الزام درست ہے یا نہیں، اس پر یہ مضمون فیصلہ نہیں دیتا، اور یہی نکتہ اصل میں اہم ہے۔ جب ملزم مر جائے تو نہ اس کا مؤقف سنا جا سکتا ہے، نہ اس کے خلاف ثبوت عدالت میں پرکھے جا سکتے ہیں، نہ متاثرہ خاندان کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اصل سچ کیا تھا۔ اس طرح ہر ہلاکت، چاہے وہ کتنی ہی جائز ہو، ایک ایسے سوال کے ساتھ ختم ہوتی ہے جس کا جواب کبھی نہیں ملتا۔
اصلاح کا راستہ
اسی لیے آئین کے آرٹیکل 9 (زندگی کا حق) اور 10-اے (منصفانہ سماعت) محض رسمی شقیں نہیں، بلکہ اس خلا کا قانونی جواب ہیں۔ یہ حق ملزم کو اس لیے نہیں دیے گئے کہ وہ نرمی کا مستحق ہے، بلکہ اس لیے کہ ریاست کے فیصلے پر اعتماد قائم رہے۔
اس لیے اصلاح کا راستہ بھی سادہ ہے: زیرِ حراست ہر ہلاکت کی آزاد عدالتی تحقیقات، جائے وقوعہ کی فرانزک رپورٹ، اسلحے اور گولیوں کا ریکارڈ، دستیاب فوٹیج کی عدالت تک رسائی، اور ایسے واقعات کا ڈیٹا عوام کے سامنے۔ ساتھ ہی استغاثہ اور گواہوں کے تحفظ کے نظام کو اتنا مضبوط کرنا ہوگا کہ ریاست کو شارٹ کٹ کی ضرورت ہی نہ رہے۔
نتیجہ
ان تمام پہلوؤں کو جوڑیں تو بحث یہ نہیں کہ مرنے والا کتنا برا تھا، اور نہ یہ کہ پولیس کی نیت کیا تھی۔ سوال یہ ہے کہ جس نظام میں پکڑنے والا ہی واقعے کا واحد راوی ہو، وہاں سچ کی جانچ کون کرے گا۔ وسیم عباس کے مقدمے کا انصاف تب مکمل ہوتا جب جرم عدالت میں ثابت ہوتا اور ہر ذمہ دار سامنے آتا۔
اگر ہم اس کے بدلے تیز رفتار انجام کو قبول کر لیں تو وہ جملہ جو ہم کبھی ناولوں اور فلموں میں سنتے تھے، آہستہ آہستہ ہماری اپنی حقیقت بن جائے گا کہ قانون بھی ہمارا، انصاف بھی ہمارا اور فیصلہ بھی ہمارا۔ اور تب عدالت کا دروازہ ہر شہری کے لیے ایک ہی جگہ بند ہو گا، چاہے وہ قصوروار ہو یا بے قصور۔





