"> مشرقِ وسطیٰ بحران: کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کا ثالثی کردار اہم
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

آبنائے ہرمز بحران: کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کا ثالثی کردار پھر نمایاں

آبنائے ہرمز اور ایران میں امریکی کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والے بحران میں پاکستان کے ثالثی کردار کو اہم قرار دے دیا گیا۔
آبنائے ہرمز اور ایران میں امریکی کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والے بحران میں پاکستان کے ثالثی کردار کو اہم قرار دے دیا گیا۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے بعد فریقین کو مذاکرات کی دعوت، خطے کی صورتحال سفارتی حل کے لیے پاکستان کے کلیدی اور ثالثی کردار کی متقاضی۔

July 8, 2026

آبنائے ہرمز میں حالیہ حملوں اور اس کے بعد جنوبی ایران میں امریکی فوجی کارروائیوں، جبکہ مرحوم آیت اللہ علی خامنہ ای کے کثیر روزہ اور متعدد شہروں میں جاری جنازے کے جلوسوں نے مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی کی نازک صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ ان واقعات نے ایک بار پھر اس ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ خطے کو ایک بڑی عسکری مہم جوئی سے بچانے کے لیے تمام متعلقہ فریقین فوری طور پر مذاکرات کی میز پر بیٹھیں، باہمی اختلافات دور کریں اور سفارتی حل تلاش کریں۔

بحران کی نئی لہر

عسکری ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ترین تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے فوری بعد امریکی افواج نے جنوبی ایران میں مخصوص اہداف پر کارروائیاں کیں۔

ان بدلتے ہوئے حالات اور خطے میں پیدا ہونے والے سکیورٹی خلا کے باعث صورتحال انتہائی پیچیدہ ہو چکی ہے، جس کے لیے فوری علاقائی روابط ناگزیر ہیں۔

پاکستان کی سفارت کاری

ان نازک حالات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور فریقین کو تصادم سے روکنے کے لیے ایک معتمد اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر پاکستان کا کردار ایک مرتبہ پھر عالمی اور علاقائی سطح پر توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔

پاکستان کے تہران اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ قائم دیرینہ اور متوازن اسٹریٹجک تعلقات اس بحران کو ٹالنے اور سفارتی حل کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *