پاکستانی حکام نے افغانستان میں مبینہ فضائی حملوں کے حوالے سے اٹھائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور زمینی حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ افغان ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان نے خوست، پکتیکا، کنڑ، برمل، مغلائی اور اسد آباد علاقوں میں ڈرون حملے کیے ہیں جن میں متعدد ہلاکتوں سمیت مالی نقصان بھی ہوا ہے۔ پاکستانی وزارت دفاع نے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کوئی فضائی کارروائی نہیں کی اور اگر پاکستان نے کارروائی کی ہوتی تو اعلانیہ تسلیم کرتا۔
عطا تارڑ اور ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کی لڑائی دہشت گردی کے خلاف ہے۔ ہم نے افغانستان پر کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا اور نہ ہی پاکستان معصوم شہریوں کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ پاکستان کی روش نہیں ہے کہ وہ معصوموں کا خون بہائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم جب بھی حملہ کیا تو دہشت گرد ٹھکانوں پر حملہ کریں کیا اور ہم چھپ کر نہیں بلکہ علی الاعلان حملہ کرتے ہیں۔
دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف اور دیگر سکیورٹی ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ رات افغانستان میں 3 مقامات پر ہونے والے حملوں میں پاکستان ملوث نہیں تھا۔
افغانستان کا داخلی مسئلہ
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق افغانستان کے مذکورہ علاقوں میں رپورٹ ہونے والے دھماکے درحقیقت افغانستان کے اندرونی مسائل کا نتیجہ ہیں جو وہاں کا ایک طرح سے ایک معمول بن چکے ہیں۔ نیز یہ واقعات باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں جنکا بنیادی مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا ہے۔
کابل کی الزام تراشی کی روایت
اس موقع پر پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان مسلسل اپنے داخلی مسائل کا الزام پاکستان پر عائد کرتا رہتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر بھی پرانی یا مسخ شدہ ہیں لہذا اس طرح کی خبریں قابلِ اعتبار نہیں ہیں۔ اسی طرح سیکیورٹی ماہرین کے مطابق افغان حکام پاکستان کے ممکنہ ردعمل سے خوفزدہ ہے بالخصوص اسلام آباد، وانا کالج اور پشاور میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے پاکستان نے جب اس طرح کا اقدام کیا تو سب پر واضح کرے گا، ریاستِ پاکستان دوہری پالیسیوں پر نہیں چلتی۔ اسی طرح حکام نے واضح کیا کہ جھوٹی خبروں کا پھیلانا جو افغان حکام کا روزِ اول سے وطیرہ رہا ہے اور اسی طرح افغانستان کے نئے حلیف بھارت کی جانب سے سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان کا سفارتی اثر و رسوخ متاثر ہوسکے۔
بھارتی سرپرستی میں پروپیگنڈا
پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ جب پاکستان کوئی کارروائی کرے گا تو اسے کھلے عام تسلیم بھی کرے گا۔ اس حوالے سے اکتوبر میں کابل کی صورتحال سب کے سامنے ہے پاکستان جب ردِعمل دیتا ہے تو اس کے اثرات سب پر عیاں ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ سیکیورٹی حکام نے کہا کہ افغانستان کا حالیہ بیانیہ ایک طرح سے بھارتی سوشل میڈیا کے طور پر استعمال ہورہا ہے تاکہ پاکستان کے خلاف فضا ہموار کرتے ہوئے عالمی سطح پر پاکستان کا سفارتی اثر و رسوخ خراب کیا جاسکے۔
پاکستان کا ردعمل ہمیشہ سے واضح رہا ہے
اس موقع پر پاکستانی حکام نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف قابل اعتماد اور مصدقہ ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر انحصار کریں تاکہ غیر ضروری گھبراہٹ اور غلط فہمیوں کا سامنا نہ ہو۔
دیکھیں: افغانستان میں ڈرون حملے اور پاکستان پر الزامات: حساس خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی