اسلام آباد: جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے زیر اہتمام کانفرنس کے دوران آنا لورینا ڈیلاگیڈیلو پیریز کی جانب سے پاکستان پر عائد الزامات کو اسلام آباد نے مسترد کرتے ہوئے انہیں غیر مصدقہ، یکطرفہ اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔
پاکستان نے واضح کیا کہ بلوچستان اس کی خودمختار ریاست کا اٹوٹ حصہ ہے اور یہاں کی سکیورٹی کارروائیاں دہشتگردی کے خلاف قانونی اقدامات ہیں، جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہیں۔
حکام کے مطابق پیریز کی تقریر میں زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک مخصوص بیانیہ پیش کیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں بدامنی کی بڑی وجہ بیرونی پشت پناہی سے چلنے والے دہشتگرد گروہ ہیں، جن میں بی ایل اے اور بی ایل ایف شامل ہیں۔
پاکستان نے نشاندہی کی کہ ان گروہوں کو امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک دہشتگرد تنظیمیں قرار دے چکے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ بھی بلوچستان میں دہشتگرد حملوں کی مذمت کر چکی ہے۔
اسلام آباد نے مزید کہا کہ بلوچ نیشنل موومنٹ اور اس سے جڑے عناصر دراصل ان کالعدم تنظیموں کا نرم چہرہ بن کر کام کر رہے ہیں اور “لاپتہ افراد” کے بیانیے کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
لاپتہ افراد کے حوالے سے پاکستان نے واضح کیا کہ ایک خودمختار کمیشن موجود ہے، جو شفاف طریقے سے کیسز دیکھ رہا ہے اور ہزاروں معاملات قانون کے مطابق حل کیے جا چکے ہیں، جبکہ کئی افراد دہشتگرد گروہوں میں شامل ہونے یا قانونی حراست میں ہونے کے باعث “لاپتہ” ظاہر کیے جاتے ہیں۔
پاکستان نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دینا حقائق کے منافی ہے، جبکہ کسی بھی انفرادی شکایت کی جانچ آزاد عدلیہ کے ذریعے کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق بلوچستان میں بحالی اور انسداد شدت پسندی کیلئے اصلاحی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں افراد کو تعلیم، تربیت اور بحالی کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ایسے فورمز سے محتاط رہے جو علیحدگی پسند بیانیے کو تقویت دیتے ہیں، اور دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرے۔
حکام نے واضح کیا کہ پاکستان انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے اور کسی بھی یکطرفہ پروپیگنڈا کو مسترد کرتا ہے۔
دیکھئیے:بلوچستان کا مقدمہ “اگرتلہ سازش کیس” کی روشنی میں دیکھنا ہوگا