وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شہزہ فاطمہ نے اعلان کیا ہے کہ گوگل پاکستان میں ہر سال 600,000 کروم بکس تیار کرے گا۔ یہ منصوبہ ملک کی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ شعبے کے لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور نوجوانوں کو تربیت دینے، اے آئی لیبز قائم کرنے اور اردو پر مبنی ڈیجیٹل ٹولز کی فراہمی جیسے اقدامات پر مشتمل ہے۔
اس سلسلے میں ہری پور میں گوگل کی پروڈکشن پلانٹ کا افتتاح کیا گیا، جو نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن اور پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے کام کر رہا ہے۔ اس پلانٹ میں تقریباً 600 نوجوان اور انجینئر کام کر رہے ہیں، جن کی محنت سے نہ صرف مقامی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ برآمدات اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ کروم بکس کی برآمد سے پاکستان کو خطے کے ٹیکنالوجی مارکیٹس میں مضبوط مقام حاصل ہوگا۔
مزید برآں، گوگل نے پاکستان میں اے آئی لیبز قائم کرنے کے لیے معاہدہ کیا ہے، جو اسکولوں میں نوجوانوں کی تربیت کے لیے بھی استعمال ہوں گی۔ حکومت قومی نصاب میں اے آئی تعلیم کو شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ طلبہ اور نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دی جا سکے۔ میٹا نے بھی مقامی اختراع کے فروغ کے لیے اردو میں اے آئی پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے، اور پاکستان چند ممالک میں سے ہے جو اپنی قومی زبان میں اے آئی سیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
کروم بکس کی تیاری میں 600 نوجوان اور خواتین انجینئرز سرکردہ ہیں جبکہ گوگل ملک بھر میں ٹریننگ فراہم کرے گا، جس میں اے آئی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس اقدام سے طلبہ اور فری لانسروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور نوجوان عالمی سطح پر جدت اور کاروباری صلاحیتیں ثابت کر رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی عالمی کمپنیوں کے ساتھ پاکستان کے تعاون نے ملک کو ڈیجیٹل معیشت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دی ہے۔ اس کے ساتھ سعودی عرب نے پاکستان میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہب قائم کیا ہے جبکہ پاکستانی کمپنیاں اب سعودی کمپنیوں کے لیے ریموٹ سروسز فراہم کر رہی ہیں۔ خصوصی اقتصادی اور سرمایہ کاری سہولت کونسل نے کاروباری قواعد کو آسان بنایا ہے، جس سے عالمی کمپنیوں کا پاکستان میں اعتماد بڑھا ہے اور ملک ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
یہ اقدامات پاکستان کو عالمی ٹیکنالوجی اور اے آئی تعلیم کے نقشے پر مضبوط مقام دینے کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو رہے ہیں۔
دیکھیں: معیشت میں بہتری کے آثار، پہلی سہ ماہی میں 15 کھرب روپے کا منافع