واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ بحریہ کے سیکریٹری جان فیلن اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں کسی بھی فوجی سروس کے سربراہ کی یہ پہلی بڑی علیحدگی ہے، جسے دفاعی قیادت میں جاری حالیہ تبدیلیوں کے سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
پینٹاگون کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں جان فیلن کے اچانک استعفے کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی گئی، تاہم یہ پیش رفت ایک ایسے حساس وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی بحریہ ایران کی بندرگاہوں پر سخت ناکہ بندی نافذ کیے ہوئے ہے اور عالمی سطح پر تہران سے وابستہ بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ جان فیلن کی رخصتی کے بعد اب ہنگ کاؤ قائم مقام سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے، جو بحریہ میں 25 سالہ جنگی تجربہ رکھنے کے ساتھ ساتھ سیاسی میدان میں بھی سرگرم رہے ہیں۔
واضح رہے کہ جان فیلن کی علیحدگی پینٹاگون کی اعلیٰ قیادت میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں کا حصہ ہے۔ اس سے قبل وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ متعدد اعلیٰ فوجی حکام بشمول جنرل رینڈی جارج، ایڈمرل لیسا فرانچیٹی اور فضائیہ کے نائب سربراہ جم سلائف کو ان کے عہدوں سے ہٹا چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی اپنی انتظامیہ کی ترجیحات کے مطابق جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل چارلس کیو براؤن جونیئر کو عہدے سے ہٹا کر عسکری ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا آغاز کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دفاعی قیادت میں ان پے در پے تبدیلیوں کا مقصد پینٹاگون کی پالیسیوں کو ٹرمپ انتظامیہ کے جارحانہ نظریات کے عین مطابق بنانا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔