مکران یونیورسٹی میں بلوچستان میں نئے صوبوں کے قیام کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔ تقریب کے اختتام پر جاری سرکاری اعلامیے کے مطابق تمام شرکاء نے نئے صوبے کے قیام کی متفقہ توثیق کی۔
اس مباحثے میں نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما پھلین بلوچ بھی موجود تھے۔ انہوں نے پینل میں شرکت کے دوران اس قرارداد کے حق میں اپنی رائے دی تھی۔ تقریب کے شرکاء نے ان کے اس مؤقف کو سراہا تھا۔
پھلین بلوچ کا یوٹرن
سیمینار کے بعد پھلین بلوچ نے اپنے ہی بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے واضح یوٹرن لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تبدیلی پارٹی قیادت کے سامنے آنے کے بعد رونما ہوئی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ اس معاملے پر الگ نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ ان پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ خطے میں روایتی سرداری اثر و رسوخ کے خاتمے کے خدشے کے پیشِ نظر نئے صوبے کے قیام کی مخالفت کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قیادت کے مبینہ دباؤ پر ہی پھلین بلوچ کو اپنے دستخط شدہ مؤقف سے مکرنے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے اس رویے کو نیشنل پارٹی کے تضادات پر مبنی سیاسی انداز کی ایک تازہ مثال قرار دیا ہے۔
دیکھیے: کیا نئے انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت ہیں؟ تفصیلی رپورٹ سامنے آ گئی