گزشتہ روز پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے جنڈ اور خوشحال گڑھ پل کے قریب ایک ریٹائرڈ ریلوے ملازم لیاقت نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے کوہاٹ اور قریبی آبادی کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق ایک خودکش حملہ آور کا ہدف حساس چیک پوسٹ تھی، تاہم لیاقت نے ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے دہشت گرد کو مشکوک پا کر روکا اور اس کی شناخت پوچھی۔ اس دوران دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں لیاقت نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ حملہ آور بھی ہلاک ہو گیا۔
وزیرِ اعظم کا خراجِ تحسین
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے شہید لیاقت کی غیر معمولی جرأت اور حب الوطنی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ لیاقت نے سیسہ پلائی دیوار بن کر نہ صرف چیک پوسٹ بلکہ درجنوں قیمتی جانوں کو بچایا۔ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ایسے نڈر شہری قوم کا اصل اثاثہ ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے ناسور کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کی۔ انہوں نے شہید کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی۔
دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد
اپنے بیان میں شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور قومی اتحاد و یکجہتی کے ذریعے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ شہید لیاقت کی یہ قربانی پاکستان کے ہر فرد کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔
علاقائی اہمیت اور بروقت کارروائی
ذرائع کے مطابق اگر لیاقت بروقت دہشت گرد کو نہ روکتے تو جانی نقصان بہت زیادہ ہو سکتا تھا کیونکہ حملہ آور کا مقصد حساس تنصیبات تک رسائی حاصل کرنا تھا۔ شہید لیاقت کی اس بہادری نے دشمن کے مذموم مقاصد کو مٹی میں ملا دیا اور ثابت کر دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی ایک سپاہی کی مانند تیار ہے۔