دنیا لبنان میں جاری “قتل عام” دیکھ رہی ہے اور اگر جنگ بندی حقیقی ہے تو اس کا اطلاق ہر جگہ ہونا چاہیے، بالخصوص لبنان میں۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے اور عالمی برادری اس کے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

April 8, 2026

ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کا جائزہ لے کر اس سے فیس وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور اس مقصد کیلئے ایک باقاعدہ نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔

April 8, 2026

حاجی محمد محقق افغانستان کی اہم سیاسی شخصیت اور ہزارہ برادری کے نمایاں رہنما ہیں، جو ماضی میں بھی طالبان کے مخالف اتحادوں کا حصہ رہے ہیں اور علاقائی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

April 8, 2026

محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر بیٹھ کر فیصلے کرنے چاہئیں تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے بات چیت کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ قومی مفاد میں سیاسی ہم آہنگی ضروری ہے۔

April 8, 2026

اسلام آباد کے اہم ہوٹل سیرینا کو حکومت نے چند روز کیلئے اپنے زیرِ استعمال لے لیا ہے، جس کے باعث وہاں مقیم مہمانوں کو قبل از وقت چیک آؤٹ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

April 8, 2026

جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایران اور لبنان پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ کارروائیاں دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت کی جا رہی ہیں تاکہ سیز فائر کو ناکام بنایا جا سکے۔

April 8, 2026

صیہونی سوچ عالمی امن کیلئے خطرہ: معاہدے کے تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں؛ شہباز شریف نے کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کر دیا

جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایران اور لبنان پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ کارروائیاں دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت کی جا رہی ہیں تاکہ سیز فائر کو ناکام بنایا جا سکے۔
شہباز شریف کا پیغام

تجربہ کار اور نسبتاً معتدل قیادت کو ہدف بنانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ مذاکرات کا راستہ بند ہو جائے اور کوئی قابلِ اعتماد فریق بات چیت کیلئے باقی نہ رہے۔

April 8, 2026

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات امن عمل کی روح کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ خطے میں بعض حلقوں نے اسرائیل کو جنگ بندی کا سب سے بڑا مخالف اور “سپائلر” قرار دیا ہے۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ زدہ علاقوں میں سیز فائر کی خلاف ورزی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جو جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کا احترام کیا جائے تاکہ مذاکرات کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔

دوسری جانب تجزیاتی حلقوں میں یہ مؤقف شدت اختیار کر رہا ہے کہ جنگ بندی سے سب سے زیادہ ناخوش عناصر وہ ہیں جو خطے میں کشیدگی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ان حلقوں کے مطابق پورے تنازع کے دوران اسرائیل نے بارہا ایسے اقدامات کیے جن سے سفارتی عمل متاثر ہوا، جن میں اعلیٰ سطحی قیادت اور ممکنہ مذاکرات کاروں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ تجربہ کار اور نسبتاً معتدل قیادت کو ہدف بنانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ مذاکرات کا راستہ بند ہو جائے اور کوئی قابلِ اعتماد فریق بات چیت کیلئے باقی نہ رہے۔

ان حلقوں کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایران اور لبنان پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ کارروائیاں دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت کی جا رہی ہیں تاکہ سیز فائر کو ناکام بنایا جا سکے۔

بیروت میں شہری علاقوں پر حملوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے سے خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف سیز فائر غیر مؤثر ہو جائے گا بلکہ ایک وسیع علاقائی جنگ کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس وقت اصل امتحان جنگ بندی کا نہیں بلکہ اس کے تحفظ کا ہے، اور عالمی برادری کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو امن عمل کو سبوتاژ ہونے سے بچا سکیں۔

دیکھئیے:قومی اتحاد ہی بنیاد: اداروں کی ہم آہنگی اور عوامی حمایت سے پاکستان کے عالمی کردار میں اضافہ

متعلقہ مضامین

دنیا لبنان میں جاری “قتل عام” دیکھ رہی ہے اور اگر جنگ بندی حقیقی ہے تو اس کا اطلاق ہر جگہ ہونا چاہیے، بالخصوص لبنان میں۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے اور عالمی برادری اس کے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

April 8, 2026

ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کا جائزہ لے کر اس سے فیس وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور اس مقصد کیلئے ایک باقاعدہ نظام تشکیل دیا جا رہا ہے۔

April 8, 2026

حاجی محمد محقق افغانستان کی اہم سیاسی شخصیت اور ہزارہ برادری کے نمایاں رہنما ہیں، جو ماضی میں بھی طالبان کے مخالف اتحادوں کا حصہ رہے ہیں اور علاقائی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

April 8, 2026

محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر بیٹھ کر فیصلے کرنے چاہئیں تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے بات چیت کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ قومی مفاد میں سیاسی ہم آہنگی ضروری ہے۔

April 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *