اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات امن عمل کی روح کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ خطے میں بعض حلقوں نے اسرائیل کو جنگ بندی کا سب سے بڑا مخالف اور “سپائلر” قرار دیا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ زدہ علاقوں میں سیز فائر کی خلاف ورزی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جو جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کا احترام کیا جائے تاکہ مذاکرات کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔
دوسری جانب تجزیاتی حلقوں میں یہ مؤقف شدت اختیار کر رہا ہے کہ جنگ بندی سے سب سے زیادہ ناخوش عناصر وہ ہیں جو خطے میں کشیدگی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ان حلقوں کے مطابق پورے تنازع کے دوران اسرائیل نے بارہا ایسے اقدامات کیے جن سے سفارتی عمل متاثر ہوا، جن میں اعلیٰ سطحی قیادت اور ممکنہ مذاکرات کاروں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ تجربہ کار اور نسبتاً معتدل قیادت کو ہدف بنانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ مذاکرات کا راستہ بند ہو جائے اور کوئی قابلِ اعتماد فریق بات چیت کیلئے باقی نہ رہے۔
ان حلقوں کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایران اور لبنان پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ کارروائیاں دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت کی جا رہی ہیں تاکہ سیز فائر کو ناکام بنایا جا سکے۔
بیروت میں شہری علاقوں پر حملوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے سے خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف سیز فائر غیر مؤثر ہو جائے گا بلکہ ایک وسیع علاقائی جنگ کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس وقت اصل امتحان جنگ بندی کا نہیں بلکہ اس کے تحفظ کا ہے، اور عالمی برادری کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو امن عمل کو سبوتاژ ہونے سے بچا سکیں۔
دیکھئیے:قومی اتحاد ہی بنیاد: اداروں کی ہم آہنگی اور عوامی حمایت سے پاکستان کے عالمی کردار میں اضافہ