سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے نجی ہسپتال میں منتقلی کی استدعا کے بعد مزید تین سزا یافتہ قیدیوں نے بھی نجی ہسپتالوں میں علاج کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا ہے، جس نے نظام انصاف اور مساوات کے نعروں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کی اس درخواست کو دیکھ کر دیگر قیدیوں کی جانب سے بھی نجی ہسپتالوں کی فرمائش سامنے آنے کے بعد سیاسی و عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جیل میں نجی ہسپتالوں کے نام پر اشرافیہ کے لیے فائیو اسٹار قیام اور خصوصی مراعات حاصل کرنے کی شروعات کی جا رہی ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جس پاکستان میں کروڑوں غریب شہری اور عام پاکستانی پمز اور پولی کلینک جیسے سرکاری اسپتالوں میں علاج کراتے ہیں، وہاں خود کو عام آدمی کا رہنما بتانے والے بانی پی ٹی آئی کا سرکاری نظام پر اعتماد نہ کرنا افسوسناک ہے۔ نجی اور مہنگے اسپتال کا انتخاب اشرافیہ کلچر کو پروموٹ کرنے کی کھلی مثال ہے۔
سیاسی تجزیہ کار سوال اٹھا رہے ہیں کہ اقتدار میں آنے سے قبل اور بعد میں دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگانے والی قیادت کا اب یہ عمل کہاں کھڑا ہے؟ کیا آئین اور قانون کے تحت عام پاکستانی اور سزا یافتہ اشرافیہ کے لیے الگ الگ قوانین اور سہولیات ہوں گی؟
ناقدین نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نجی اسپتال کا انتخاب اور ذاتی معالجین کی شرط بنیادی طور پر اسی ایلیٹ کلچر کی جڑیں مضبوط کرنے کی کوشش ہے جس کے خلاف بانی پی ٹی آئی نے دہائیوں تک سیاست کی۔ جیل میں بھی شاہانہ سہولیات کا اصرار ان کے ماضی کے تمام دعووں اور نعروں کی نفی کر رہا ہے۔
دیکھیے: عمران خان کے بعد 3 قیدیوں کا نجی علاج کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع