افغان طالبان کی جانب سے نافذ کردہ جابرانہ قوانین اور ہرات میں شہریوں کے حالیہ قتل عام کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پیر کے روز کینیڈا اور یورپ کے مختلف ممالک میں سینکڑوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر طالبان رجیم کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
جرمنی کے شہر اسٹُٹ گارٹ میں ہونے والے ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کے دوران شرکاء نے جرمن حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان طالبان کے ساتھ تمام تر سفارتی روابط فوری طور پر منقطع کرے۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر خاموشی مجرمانہ ہے۔
اسی طرح کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں بھی سینکڑوں افراد نے احتجاجی ریلی نکالی۔ مظاہرین نے تعلیم، روزگار اور آزادی کے نعرے لگائے اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ طالبان کی جابرانہ پالیسیوں اور ہرات میں ہونے والے کریک ڈاؤن پر خاموشی توڑی جائے۔
احتجاج کا یہ سلسلہ اسپین اور اٹلی تک بھی پھیل گیا، جہاں مظاہرین نے افغان خواتین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ شرکاء نے انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین کی آزادیوں پر قدغن لگانے کے اقدامات کی شدید مذمت کی۔
یاد رہے کہ ہرات میں شہریوں کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں تارکینِ وطن افغان اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل احتجاج کر رہی ہیں۔
دیکھیے: ضلع کرم میں چیک پوسٹ پر حملہ، پولیس اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق