کراچی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ فوجی حملہ عارضی طور پر روکنے کے اسٹریٹجک اعلان کے بعد عالمی مارکیٹوں سمیت پاکستان کے مالیاتی اور کاروباری حلقوں میں زبردست مثبت لہر دوڑ گئی ہے۔ عالمی سطح پر جنگ کے بادل چھٹنے کی امید پر آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
کاروباری ہفتے کے دوسرے روز مارکیٹ کھلتے ہی انڈیکس نے اونچی اڑان بھری اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں اب تک 2,248 پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس غیر معمولی تیزی کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس اس وقت 1 لاکھ 64 ہزار 53 پوائنٹس کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ کاروباری برادری اور معاشی ماہرین نے اس تیزی کو ملکی معیشت اور اسٹاک مارکیٹ کے لیے انتہائی خوش آئند قرار دیا ہے۔
اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے ساتھ ساتھ کرنسی مارکیٹ میں بھی روپے کی پوزیشن مستحکم دیکھی گئی ہے۔ انٹربینک میں امریکی ڈالر کا بھاؤ 3 پیسے کم ہو کر 278.57 روپے پر آ گیا ہے، جبکہ گزشتہ روز کاروباری اختتام پر ڈالر 278.60 روپے پر بند ہوا تھا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی سفارتی درخواست اور ثالثی کوششوں پر ایران پر منگل کو طے شدہ حملہ عارضی طور پر ملتوی کرنے کا بڑا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کے لیے ایران کے پاس ڈیل کرنے کا یہ ایک بہترین اور آخری موقع ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین کشیدگی میں وقتی طور پر کمی آئی ہے۔
دیکھئیے:ملک میں 10 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، غیر ملکی سرمایہ کاری میں 218 فیصد کا ریکارڈ اضافہ