سان ڈیاگو: امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو کے اسلامک سینٹر میں پیش آنے والے فائرنگ کے ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعے میں 3 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق، واقعے کے فوراً بعد جائے وقوعہ کے قریب ایک گاڑی سے 2 مبینہ مشتبہ ملزمان کی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 19 مئی 2026 کو رونما ہونے والے اس ہولناک حملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور اس وقت اسے ایک “نفرت انگیز جرم” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دفاعی اور سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ سان ڈیاگو کے اسلامک سینٹر پر یہ بزدلانہ حملہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اسلامو فوبیا اور مسلم دشمنی عالمی امن، بقائے باہمی اور عوامی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف پھیلی نفرت انگیز تقاریر اور انتہا پسندانہ بیانیے کو اب محض “آن لائن شور” کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہی ڈیجیٹل نفرت معصوم برادریوں کے خلاف حقیقی دنیا میں تشدد کو جنم دے رہی ہے۔ مساجد اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا نہ صرف مذہبی آزادی اور انسانی وقار پر حملہ ہے بلکہ یہ رواداری اور کثرتِ رائے کی آفاقی اقدار کے بھی یکسر منافی ہے۔
عالمی برادری کو اب یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بڑھتا ہوا مسلم دشمنی کا رجحان اور نسل پرستی معصوم جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔ اس اندوہناک واقعے نے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے اس دیرینہ اور بار بار دہرائے جانے والے موقف کی تصدیق کر دی ہے، جس میں پاکستان نے ہمیشہ اسلامو فوبیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے پھیلائی جانے والی نفرت کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔
ماہرین کے مطابق، سیاسی پولرائزیشن، سنسنی خیز گمراہ کن معلومات اور مسلمانوں کی منفی تصویر کشی ایسا ماحول پیدا کرتی ہے جہاں انتہا پسندانہ تشدد کو جواز مل جاتا ہے۔ لہٰذا، اب وقت آگیا ہے کہ عالمی حکومتیں، میڈیا اور ٹیکنالوجی کمپنیاں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈے کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کریں۔ حملوں پر یہ سلیکٹیو خاموشی انسانی حقوق کے اصولوں کو نقصان پہنچاتی ہے، اور مساجد کا تحفظ اب ایک مشترکہ عالمی ذمہ داری بن چکا ہے۔
دیکھئیے:اسلاموفوبیا اور ڈس انفارمیشن عالمی امن کے لیے خطرہ: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا احتساب کا مطالبہ