راولپنڈی: خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑا اور انتہائی کامیاب آپریشن کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 22 ہلاکت خیز دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، یہ کارروائی شمالی وزیرستان کے علاقے ‘شیوہ’ میں کی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، علاقے میں 17 مئی 2026 سے مروجہ انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔ اس آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے خفیہ ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کو انتہائی مؤثر اور نشانہ باز انداز میں نشانہ بنایا۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں فتنہ الخوارج کے 22 دہشت گرد مارے گئے، جن کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید خودکار اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والے خوارج علاقے میں سکیورٹی فورسز پر حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کی متعدد سنگین وارداتوں میں مطلوب تھے۔
فوج کے ترجمان ادارے نے مزید انکشاف کیا کہ حاصل شدہ شواہد سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ان خوارج نے مقامی معصوم آبادی کو بندوق کے زور اور دھمکیوں کے ذریعے یرغمال بنا رکھا تھا۔ دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز کی کارروائی سے بچنے اور اپنی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے مقامی شہریوں کو “انسانی ڈھال” کے طور پر استعمال کیا، جو ان کے بزدلانہ اور غیر انسانی ہتھکنڈوں کا کھلا ثبوت ہے۔
آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ معصوم شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی کسی کو ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔ علاقے میں خوارج کے مکمل خاتمے تک کلیئرنس آپریشن اب بھی جاری ہے اور سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کا مؤثر محاصرہ کر رکھا ہے۔
دیکھئیے:شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 18 خوارج جہنم واصل