پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے اپنے لیڈر کی اندھی تقلید میں ریاست، اداروں اور ملکی معیشت کے خلاف جاری مہم نے سیاسی احتجاج اور بغاوت کے درمیان لکیر ختم کر دی ہے

February 18, 2026

وزیرِ خارجہ اسحق ڈار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین کی صورتحال پر منعقدہ خصوصی بریفنگ میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان کا مٔوقف پیش کریں گے

February 18, 2026

شہباز گل کی جانب سے بانئ پی ٹی آئی کی صحت اور بینائی کے حوالے سے پھیلائی گئی سنسنی خیزی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے محض ایک سیاسی پروپیگنڈا قرار دیا گیا ہے

February 18, 2026

نقاب پوش وردی میں ملبوس افراد کی جانب سے تحائف دیتے ہوئے مناظر جاری کرنا اور اس عمل کو نمایاں انداز میں پیش کرنا، بعض مبصرین کے نزدیک القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کے پروپیگنڈا طریقۂ کار کی یاد دلاتا ہے، جہاں قیدیوں کے تبادلے کو علامتی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دکھایا جاتا رہا ہے۔

February 17, 2026

دوسری جانب بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے خیبرپختونخوا حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ احتجاج کی سیاست کے نام پر اپنے ہی صوبے کو بند کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “احتجاج_کی_سیاست کے تحت خود ہی صوبہ بند کر دینا مسائل کا حل نہیں، ایسے نہیں چلے گا۔”

February 17, 2026

امریکی جریدے ‘فارن پالیسی’ نے وادیٔ چناب میں بھارتی ڈیم سازی کے تباہ کن اثرات بے نقاب کر دیے، جس سے بیس ہزار سے زائد مقامی آبادی کی بے دخلی اور ماحولیاتی بحران شدت اختیار کر گیا ہے

February 17, 2026

پی ٹی آئی کا ‘اینٹی اسٹیٹ’ بیانیہ: کارکنان ریاست مخالف گروہ میں تبدیل

پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے اپنے لیڈر کی اندھی تقلید میں ریاست، اداروں اور ملکی معیشت کے خلاف جاری مہم نے سیاسی احتجاج اور بغاوت کے درمیان لکیر ختم کر دی ہے
پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے اپنے لیڈر کی اندھی تقلید میں ریاست، اداروں اور ملکی معیشت کے خلاف جاری مہم نے سیاسی احتجاج اور بغاوت کے درمیان لکیر ختم کر دی ہے

پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے آئی ایم ایف کو خطوط لکھنے، عالمی پابندیوں کی اپیل اور سوشل میڈیا پر بھارت و افغان بیانیے کی حمایت نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ گروہ سیاسی جماعت کے بجائے ایک ریاست مخالف جتھے کی شکل اختیار کر رہا ہے

February 18, 2026

پی ٹی آئی کے اندر پروان چڑھنے والی انتہاء پسندانہ شخصیت پرستی نے اب باقاعدہ ایک ریاست مخالف رُخ اختیار کر لیا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں اور عوامی حلقوں میں اس بات پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنان اپنے لیڈر کے اقتدار کی ہوس میں ملکی سالمیت اور معاشی استحکام کو داؤ پر لگانے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔

پی ٹی آئی کارکنان کا کردار
رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنان اس حد تک ‘سیاسی اندھے پن’ کا شکار ہو چکے ہیں کہ انہیں پاکستان کی ریاست اور اس کے دفاعی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔ “خان نہیں تو پاکستان نہیں” جیسا فتنہ انگیز نعرہ اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں ملک کی بقا کو ایک فردِ واحد سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت کے کارکنان اب منظم گروہ کی صورت میں ریاست کے ستونوں کو کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

معاشی دہشت گردی
پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں کا سب سے شرمناک فعل آئی ایم ایف اور عالمی اداروں کو خطوط لکھ کر پاکستان کو دیوالیہ بنانے کی سازش کرنا ہے۔ اپنے ہی ملک کو کمزور کرنے کا یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک اقتدار کے حصول کے لیے پاکستان کی معاشی تباہی بھی ایک جائز راستہ ہے۔

بھارتی اور افغان بیانیے کی پشت پناہی
سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کا طرزِ عمل ملک دشمنی کی حدوں کو چھو رہا ہے۔ ڈیجیٹل محاذ پر یہ کارکنان بھارتی پروپیگنڈا مشینری اور افغان مخالف گروہوں کے ساتھ مل کر اپنے ہی ملک اور فوج کے خلاف مہم جوئی کرتے پائے گئے ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تحریکِ انصاف کے کارکنان اب محض ایک سیاسی جماعت کا حصہ نہیں رہے بلکہ ایک ایسے گروہ میں تبدیل ہو چکے ہیں جو دشمن کے ایجنڈے کو تقویت پہنچا رہا ہے۔

حالیہ احتجاجی مظاہرے

پی ٹی آئی کے حالیہ احتجاجی مظاہروں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ اس جماعت کے کارکنان سیاسی احتجاج کی آڑ میں ریاست کو یرغمال بنانے کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔ پرامن احتجاج کے بجائے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کرنا اور شہریوں کی زندگیوں کو اجیرن بنانا ان کا وطیرہ بن چکا ہے۔ ان مظاہروں کے دوران جس طرح منظم طریقے سے شرپسندی پھیلائی گئی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کیا گیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ کارکنوں کی تربیت سیاسی بنیادوں کے بجائے اشتعال انگیزی اور انتشار پر کی گئی ہے۔

یہ مظاہرے محض سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ ریاست کے خلاف ایک سوچی سمجھی مہم کا حصہ دکھائی دیتے ہیں، جس کا مقصد ملک میں عدم استحکام پیدا کر کے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مجروح کرنا ہے۔ لہذا اسکا کا فوری اور سخت محاسبہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

دیکھیے: احتجاج کے نام پر اپنا ہی صوبہ بند کردیا، اب بالکل ایسا نہیں چلے گا؛ سلمان اکرم راجہ کی صوبائی حکومت پر تنقید

متعلقہ مضامین

وزیرِ خارجہ اسحق ڈار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین کی صورتحال پر منعقدہ خصوصی بریفنگ میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان کا مٔوقف پیش کریں گے

February 18, 2026

شہباز گل کی جانب سے بانئ پی ٹی آئی کی صحت اور بینائی کے حوالے سے پھیلائی گئی سنسنی خیزی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے محض ایک سیاسی پروپیگنڈا قرار دیا گیا ہے

February 18, 2026

نقاب پوش وردی میں ملبوس افراد کی جانب سے تحائف دیتے ہوئے مناظر جاری کرنا اور اس عمل کو نمایاں انداز میں پیش کرنا، بعض مبصرین کے نزدیک القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کے پروپیگنڈا طریقۂ کار کی یاد دلاتا ہے، جہاں قیدیوں کے تبادلے کو علامتی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دکھایا جاتا رہا ہے۔

February 17, 2026

دوسری جانب بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے خیبرپختونخوا حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ احتجاج کی سیاست کے نام پر اپنے ہی صوبے کو بند کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “احتجاج_کی_سیاست کے تحت خود ہی صوبہ بند کر دینا مسائل کا حل نہیں، ایسے نہیں چلے گا۔”

February 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *