پی ٹی آئی کے اندر پروان چڑھنے والی انتہاء پسندانہ شخصیت پرستی نے اب باقاعدہ ایک ریاست مخالف رُخ اختیار کر لیا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں اور عوامی حلقوں میں اس بات پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنان اپنے لیڈر کے اقتدار کی ہوس میں ملکی سالمیت اور معاشی استحکام کو داؤ پر لگانے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔
پی ٹی آئی کارکنان کا کردار
رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنان اس حد تک ‘سیاسی اندھے پن’ کا شکار ہو چکے ہیں کہ انہیں پاکستان کی ریاست اور اس کے دفاعی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔ “خان نہیں تو پاکستان نہیں” جیسا فتنہ انگیز نعرہ اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں ملک کی بقا کو ایک فردِ واحد سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت کے کارکنان اب منظم گروہ کی صورت میں ریاست کے ستونوں کو کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
معاشی دہشت گردی
پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں کا سب سے شرمناک فعل آئی ایم ایف اور عالمی اداروں کو خطوط لکھ کر پاکستان کو دیوالیہ بنانے کی سازش کرنا ہے۔ اپنے ہی ملک کو کمزور کرنے کا یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک اقتدار کے حصول کے لیے پاکستان کی معاشی تباہی بھی ایک جائز راستہ ہے۔
بھارتی اور افغان بیانیے کی پشت پناہی
سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کا طرزِ عمل ملک دشمنی کی حدوں کو چھو رہا ہے۔ ڈیجیٹل محاذ پر یہ کارکنان بھارتی پروپیگنڈا مشینری اور افغان مخالف گروہوں کے ساتھ مل کر اپنے ہی ملک اور فوج کے خلاف مہم جوئی کرتے پائے گئے ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تحریکِ انصاف کے کارکنان اب محض ایک سیاسی جماعت کا حصہ نہیں رہے بلکہ ایک ایسے گروہ میں تبدیل ہو چکے ہیں جو دشمن کے ایجنڈے کو تقویت پہنچا رہا ہے۔
حالیہ احتجاجی مظاہرے
پی ٹی آئی کے حالیہ احتجاجی مظاہروں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ اس جماعت کے کارکنان سیاسی احتجاج کی آڑ میں ریاست کو یرغمال بنانے کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔ پرامن احتجاج کے بجائے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کرنا اور شہریوں کی زندگیوں کو اجیرن بنانا ان کا وطیرہ بن چکا ہے۔ ان مظاہروں کے دوران جس طرح منظم طریقے سے شرپسندی پھیلائی گئی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کیا گیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ کارکنوں کی تربیت سیاسی بنیادوں کے بجائے اشتعال انگیزی اور انتشار پر کی گئی ہے۔
یہ مظاہرے محض سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ ریاست کے خلاف ایک سوچی سمجھی مہم کا حصہ دکھائی دیتے ہیں، جس کا مقصد ملک میں عدم استحکام پیدا کر کے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مجروح کرنا ہے۔ لہذا اسکا کا فوری اور سخت محاسبہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔