سیاست نام ہے نظم و ضبط، نظریے اور اجتماعی مقصد کا۔ لیکن جب یہ تینوں عناصر غائب ہو جائیں اور ان کی جگہ ذاتی مفادات، الزام تراشی اور اندرونی اقتدار کی جنگ لے لے، تو جماعتیں اندر سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ صورتحال اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی حالیہ آڈیو لیکس اسی افسوسناک رویے کی عکاسی کرتی ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب جماعت کے بانی جیل میں ہیں اور پارٹی کو سخت سیاسی و آئینی چیلنجز کا سامنا ہے، صوبائی قیادت کا یوں واٹس ایپ گروپس میں ایک دوسرے کے کپڑے دھونا اور ایکسپوز کرنے کی دھمکیاں دینا ظاہر کرتا ہے کہ ترجیحات کہاں کھڑی ہیں۔ میڈ ان چائنا، خود ساختہ ٹیپو سلطان اور فکس میچ جیسے الفاظ نہ صرف سیاسی اخلاقیات کی گرتی ہوئی سطح کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ فیصلے عوامی خدمت یا نظریے کی بنیاد پر نہیں بلکہ مبینہ طور پر لوڈ شیڈنگ اور ‘شرائط’ کے تحت ہو رہے ہیں۔
جب رہنماؤں کی توجہ اپنے ہی ساتھیوں کو نیچا دکھانے، آڈیوز لیک کرنے اور بانی کی ملاقاتوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے پر مرکوز ہو جائے، تو اس سے وہ عام کارکن سب سے زیادہ بددل ہوتا ہے جو سڑکوں پر لاٹھیاں کھاتا ہے اور اپنے قائد کی رہائی کی امید لگائے بیٹھا ہے۔ کارکنوں کو لگتا ہے کہ وہ ایک نظریاتی جدوجہد کا حصہ ہیں، جبکہ دوسری طرف بند کمروں اور واٹس ایپ گروپس میں صدارتوں، وزرائے اعلیٰ کے عہدوں اور اقتدار کی ضمانتوں پر سودے بازی ہو رہی ہوتی ہے۔
اس پورے واقعے کا سب سے خوفناک پہلو احسان فراموشی اور لیکس کی سیاست ہے۔ اگر کسی کے پاس پارٹی کے اندرونی معاملات یا قیادت کی سودے بازی کے سچے ثبوت موجود بھی ہیں، تو انہیں عوامی تماشے کے لیے محفوظ رکھنا یہ ثابت کرتا ہے کہ خاموشی بھی تب تک ہے جب تک اپنا مفاد وابستہ ہے۔ جیسے ہی ذاتی انا پر چوٹ پڑتی ہے، سارا “اتحاد اور اتفاق” دھڑام سے نیچے آ گرتا ہے۔
سیاست میں اختلافات کا ہونا کوئی نئی بات نہیں، لیکن جب اختلافات کی بنیاد سیاسی نظریے کے بجائے مجھے کس نے ہٹایا اور تمہیں کون لایا پر مبنی ہو، تو عوام کا جمہوریت اور سیاسی جماعتوں سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اقتدار اور عہدے وقتی ہوتے ہیں، لیکن جو بات قائم رہتی ہے وہ قائدانہ ظرف اور تحریکی یکجہتی ہے۔ اگر خیبرپختونخوا کی قیادت نے اپنی زبانوں پر لگام نہ دی اور ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر فیصلے نہ کیے، تو انہیں کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں پڑے گی؛ ان کا اپنا اندرونی انتشار ہی ان کی سیاسی بنیادیں ہلانے کے لیے کافی ہوگا۔