حکومت نے ایندھن کی بچت کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو بھی عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق سکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جائیں گی جبکہ ہائر ایجوکیشن کے اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کی جائیں گی۔

March 10, 2026

امریکی حکام اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا

March 10, 2026

افغانستان کی اسلامی جمہوریہ کے 20 سالہ دور میں طالبان افغان سیکیورٹی فورسز سے لڑ کر کسی ایک صوبے یا بڑے شہر پر بھی قبضہ نہیں کر سکے تھے

March 9, 2026

ماہرین نے عدالتی فیصلے کو انسانی حقوق اور خاندانی قوانین کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

March 9, 2026

افغانستان کی صورتحال نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ پورے خطے کے امن اور تعاون کیلئے اہم ہے، اسی لیے وہاں استحکام کا قیام ضروری ہے۔

March 9, 2026

بھارت ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی کر رہا ہے، آٹھ ٹیموں میں سے چار رکھ لیتے ہیں پھر انہی میں سے تین کو آگے بلا لیتے ہیں اور آخر میں کہتے ہیں دیکھو میں جیت گیا۔

March 9, 2026

پی ٹی آئی کا خیبرپختونخوا سے فوجی انخلاء کا مطالبہ

یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب سیکیورٹی فورسز نے خوارج اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں شروع کی ہیں۔ عوامی سطح پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر پی ٹی آئی اب انخلا کا مطالبہ کیوں کر رہی ہے؟ کیا یہ واقعی عوامی مفاد کا معاملہ ہے یا پھر ایک مذموم سیاسی ایجنڈے کا حصہ؟
پی ٹی آئی فوجی انخلاء

پی ٹی آئی خیبرپختونخوا نے صوبے سے فوج کے انخلاء کا مطالبہ کر دیا، ماہرین اسے دہشت گردوں کی غیر اعلانیہ مدد قرار دے رہیے ہیں۔

July 29, 2025

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کی تنظیمی کمیٹی نے صوبے میں آرٹیکل 245 کے تحت تعینات فوج کی 15 روز میں واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس مطالبے نے ملکی سیاسی و سیکیورٹی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں دوبارہ شدت آ رہی ہے۔

دفاعی ذرائع کے مطابق پاک فوج اس وقت روزانہ 190 سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز میں مصروف ہے، جن کا مقصد دہشت گردوں کو ختم کرنا اور عوام کے جان و مال کو محفوظ بنانا ہے۔ ایسے میں فوجی انخلاء کا مطالبہ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق “دہشت گردوں کے لیے سہولت کاری” کے مترادف ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا حالیہ بیانیہ اس زبان سے مشابہت رکھتا ہے جو بھارت، بلوچ علیحدگی پسند گروہ، اور ٹی ٹی پی جیسے دشمن عناصر استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین اسے ایک “خطرناک سیاسی چال” قرار دے رہے ہیں جو کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

گورننس میں خلا: 12 سالہ پی ٹی آئی دور کا نتیجہ

تیرہ، بنوں، پاراچنار اور کرم ایجنسی جیسے علاقوں میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کا پس منظر دیکھیں تو یہ پی ٹی آئی کے 12 سالہ دور حکومت میں پیدا ہونے والے گورننس خلا کا نتیجہ ہیں۔ 2021 میں دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات اور ان کی واپسی کی پالیسیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کا کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ اپنا 96 فیصد بجٹ صرف تنخواہوں پر خرچ کرتا ہے جبکہ آپریشنز، تربیت اور جدید سازوسامان کے لیے کوئی خاطرخواہ وسائل موجود نہیں۔ اگرچہ صوبے میں افسران کی تعداد دیگر صوبوں سے زیادہ ہے، مگر تربیت اور صلاحیت کا شدید فقدان ہے۔

فوج کا کردار

ڈی جی آئی ایس پی آر پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ فوج وہ خلا پُر کر رہی ہے جو سول حکومت نے پیدا کیا۔ اگر فوج کو نکال دیا جائے تو ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گرد دوبارہ منظم ہو سکتے ہیں، اور اس کے خطرناک نتائج پورے ملک کو متاثر کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق فوجی انخلاء کا مطالبہ صرف پی ٹی آئی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، خاص طور پر 5 اگست کے ناکام احتجاج کے بعد۔ اس مطالبے کو پاکستان کے خلاف دشمن طاقتوں کی دیرینہ حکمت عملی سے جوڑا جا رہا ہے، جس کا مقصد ریاست کو اندر سے کمزور کرنا ہے۔

یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب سیکیورٹی فورسز نے خوارج اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں شروع کی ہیں۔ عوامی سطح پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر پی ٹی آئی اب انخلا کا مطالبہ کیوں کر رہی ہے؟ کیا یہ واقعی عوامی مفاد کا معاملہ ہے یا پھر ایک مذموم سیاسی ایجنڈے کا حصہ؟

دیکھیں: وادی تیراہ میں ہزاروں مظاہرین کا پرامن احتجاج، علاقے سے عسکریت پسندوں کے انخلا کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

حکومت نے ایندھن کی بچت کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو بھی عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق سکولوں کو دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جائیں گی جبکہ ہائر ایجوکیشن کے اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کی جائیں گی۔

March 10, 2026

امریکی حکام اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا

March 10, 2026

افغانستان کی اسلامی جمہوریہ کے 20 سالہ دور میں طالبان افغان سیکیورٹی فورسز سے لڑ کر کسی ایک صوبے یا بڑے شہر پر بھی قبضہ نہیں کر سکے تھے

March 9, 2026

ماہرین نے عدالتی فیصلے کو انسانی حقوق اور خاندانی قوانین کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

March 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *