ترجمان کے مطابق سری لنکا کے لیے بھارتی پرواز کی کلیئرنس میں اصل تاخیر بھارت کی جانب سے ہوئی کیونکہ پاکستان نے تمام دستاویزات بروقت فراہم کر دی تھیں، جبکہ کلیئرنس بھارت نے خود 60 سے 70 گھنٹے بعد جاری کی۔

December 5, 2025

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی این ایف سی اجلاس میں بھرپور شرکت اس امر کا اشارہ ہے کہ صوبائی حکومت آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پی ٹی آئی کی داخلی سیاست اپنی جگہ، مگر ساڑھے چار کروڑ عوام امن، روزگار اور استحکام چاہتے ہیں اور یہی وہ چیلنج ہے جس پر وزیراعلیٰ کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔

December 5, 2025

یفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے نے کہا ہے کہ ایک ذہنی مریض افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کررہا ہے، اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والا دوسروں کو غدار کہتا پھر رہا ہے، ایک شخص کی ذات اور خواہشات ریاست پاکستان سے بڑھ کر ہیں، اس شخص کی سیاست ختم ہوچکی۔

December 5, 2025

بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کی مالی اور اسٹریٹیجک سپورٹ کو ہر ممکن طریقے سے ختم کرتے ہوئے صوبے میں پائیدار امن کی بحالی اس پورے عمل کی مرکزی ترجیح ہے۔

December 5, 2025

پاکستانی ماہرین نے واضح کیا کہ داخلی معاملات پر بیرونی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا اور ریاست مخالف عناصر کے خلاف کارروائیاں ملکی آئین و قانون کے مطابق جاری رہیں گی۔

December 5, 2025

وادی تیراہ میں ہزاروں مظاہرین کا پرامن احتجاج، علاقے سے عسکریت پسندوں کے انخلا کا مطالبہ

مقامی ذرائع کے مطابق وادی تیراہ کے برقمبرخیل قبیلے کی جانب سے جاری قومی دھرنا عسکریت پسندوں کے ٹھکانے بھوٹان’ کی جانب روانہ ہوگیا جس میں ہزاروں افراد شریک ہیں۔’
وادی تیراہ قومی دھرنا

قومی دھرنے کی قیادت قومی مشر حاجی ظاہر شاہ آفریدی کر رہے ہیں۔ دھرنے میں قبیلہ برقمبرخیل کے مشران کے ساتھ ساتھ دینی مدرسوں اور اسکولوں کے طلباء کی بڑی تعداد بھی شریک ہیں

July 28, 2025

پاک افغان بارڈر کے قریب وادی تیراہ میں حالات کشیدہ ہو گئے، مقامی مظاہرین نے مبینہ عسکریت پسندوں کے مراکز کی طرف احتجاجی دھرنے کی شکل میں جانا شروع کیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق وادی تیراہ کے برقمبرخیل قبیلے کی جانب سے جاری قومی دھرنا عسکریت پسندوں کے ٹھکانے بھوٹان’ کی جانب روانہ ہوگیا جس میں ہزاروں افراد شریک ہیں۔’

تفصیلات کے مطابق وادی تیراہ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں برقمبرخیل قبیلے کا ایک بڑا اور منظم احتجاجی دھرنا آج بھوٹان کی طرف روانہ ہوگیا۔ اس قومی دھرنے کی قیادت قومی مشر حاجی ظاہر شاہ آفریدی کر رہے ہیں۔ دھرنے میں قبیلہ برقمبرخیل کے مشران کے ساتھ ساتھ دینی مدرسوں اور اسکولوں کے طلباء کی بڑی تعداد بھی شریک ہیں۔

ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق دھرنے میں شرکت کرنے والے افراد کی تعداد تقریباً آٹھ ہزار بتائی جارہی ہے، جن میں بزرگ، نوجوان اور بچے شامل ہیں۔ مظاہرین مکمل طور پر پرامن ہیں اور سروں پر قرآن پاک اٹھائے ہوئے ہیں۔

مظاہرین نے دھرنے کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت انتظامات کیے ہیں۔ ان کے پاس خشک روٹی، پانی کی بوتلیں اور گُڑ موجود ہے تاکہ طویل راستے اور دھرنے کے دوران بنیادی ضروریات کو پوری کی جا سکیں۔

احتجاج کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ عسکریت پسند عناصر پرامن طور پر علاقے سے انخلاء کرکے نکل جائیں تاکہ وادی تیراہ میں دیرپا امن قائم ہو۔ زرائع کے مطابق مظاہرین پہلے بھوٹان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کا رخ کریں گے جہاں عسکریت پسند موجود ہیں اور بعد ازاں موچوپورہ اور درربی خیل میں ان کی مقامی قیادت سے ملاقات کرکے امن کا مطالبہ کریں گے۔

اس سے قبل مشیر اطلاعات خیبر پختنوخواہ بیرسٹر سیف نے میڈیا کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ علی امین گنڈاپور تیراہ کی صورتحال کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ معاونِ خصوصی بیرسٹر ڈاکٹر سیف کے مطابق وزیر اعلیٰ مسلسل انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور قبائلی عمائدین کا جرگہ پشاور طلب کر لیا گیا ہے۔

ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ حکومت نے گزشتہ ہفتے آل پارٹیز کانفرنس بلائی تھی تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جائے، مگر اپوزیشن اور گورنر نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور کانفرنس کا بائیکاٹ کیا۔

اس سے قبل مظاہرے کے دوران فائرنگ کتے تبادلے میں چار افراد جاں بحق اور متعدد ذخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے تھے مگر مذاکرات کامیاب ہو گئے۔ حکومت نے جاں بحق افراد کے لیے ایک کروڑ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے 25 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹر سیف کے مطابق صوبائی حکومت اس دکھ کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں عسکری کارروائیاں اگرچہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کی جاتی ہیں مگر اگر ان کے ساتھ شفافیت اور قبائلی مشاورت نہ ہو تو عوامی اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ وادی تیراہ کشیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صرف طاقت سے نہیں، بلکہ مکالمے، شراکت داری، اور احترام کے ذریعے ہی امن ممکن ہے۔

دیکھیں: پاک افغان ازبکستان ریلوے منصوبہ اور خطے پر اس کے ممکنہ اثرات

متعلقہ مضامین

ترجمان کے مطابق سری لنکا کے لیے بھارتی پرواز کی کلیئرنس میں اصل تاخیر بھارت کی جانب سے ہوئی کیونکہ پاکستان نے تمام دستاویزات بروقت فراہم کر دی تھیں، جبکہ کلیئرنس بھارت نے خود 60 سے 70 گھنٹے بعد جاری کی۔

December 5, 2025

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی این ایف سی اجلاس میں بھرپور شرکت اس امر کا اشارہ ہے کہ صوبائی حکومت آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پی ٹی آئی کی داخلی سیاست اپنی جگہ، مگر ساڑھے چار کروڑ عوام امن، روزگار اور استحکام چاہتے ہیں اور یہی وہ چیلنج ہے جس پر وزیراعلیٰ کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔

December 5, 2025

یفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے نے کہا ہے کہ ایک ذہنی مریض افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کررہا ہے، اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والا دوسروں کو غدار کہتا پھر رہا ہے، ایک شخص کی ذات اور خواہشات ریاست پاکستان سے بڑھ کر ہیں، اس شخص کی سیاست ختم ہوچکی۔

December 5, 2025

بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کی مالی اور اسٹریٹیجک سپورٹ کو ہر ممکن طریقے سے ختم کرتے ہوئے صوبے میں پائیدار امن کی بحالی اس پورے عمل کی مرکزی ترجیح ہے۔

December 5, 2025

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *