پاکستان تحریک انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ نے سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس سلسلے میں راولپنڈی ڈویژن بھر میں 43 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔
مظاہرین کو جڑواں شہروں میں داخلے سے روکنے کے لیے راولپنڈی، اٹک، مری، جہلم اور چکوال میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ضلع اٹک میں 30 ہزار جبکہ راولپنڈی میں 10 ہزار سے زائد اہلکار فرائض انجام دیں گے۔
حکام نے راولپنڈی کے 26 داخلی راستوں اور 73 ناکہ بندی کے مقامات پر نفری مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 500 ریپیٹر گنز اور 57 ہزار ربڑ کی گولیاں طلب کی گئی ہیں۔
پولیس کو 710 آنسو گیس گنز، ہزاروں شیلز اور نگرانی کے لیے 12 کواڈ کاپٹرز بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ فورس کی حفاظت کے لیے ہزاروں اینٹی رائٹ کٹس، شیلڈز، بلٹ پروف ہیلمٹ اور جیکٹس بھی منگوائی گئی ہیں۔
انتظامیہ نے مارچ کے قریب پہنچنے تک جڑواں شہروں کے راستے معمول کے مطابق کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب میں مارچ کے داخلے اور پیش قدمی کا جائزہ لے کر بروقت حکمت عملی اپنائی جائے گی۔
پنجاب کے محکمہ داخلہ نے پولیس کی مدد کے لیے رینجرز تعینات کرنے کی سفارش وفاقی وزارت داخلہ کو بھجوا دی ہے۔ راولپنڈی، اٹک، ٹیکسلا، جہلم اور میانوالی کے لیے رینجرز کی مختلف کمپنیاں اور ونگز طلب کیے گئے ہیں۔ یہ تعیناتی 5 اکتوبر تک کے لیے مانگی گئی ہے۔
دوسری جانب حفاظتی اقدامات کے تحت موٹروے ایم ون کو اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔