پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی جانب سے ایک بار پھر غیر مصدقہ نوٹیفکیشن اور سوشل میڈیا افواہوں کی بنیاد پر نسلی اور سیاسی پراپیگنڈا پھیلا کر خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پی ٹی ایم ڈنمارک نے تصدیق شدہ حقائق اور محض الزامات کے درمیان فرق کیے بغیر، غیر مصدقہ اطلاعات کو ریاستی جبر سے جوڑنے کا بیانیہ تشکیل دینے کی ناکام کوشش کی ہے۔
مظلومیت کارڈ
سیاسی و سکیورٹی امور کے ماہرین کے مطابق پی ٹی ایم مسلسل ہر انفرادی یا غیر مصدقہ واقعے کو پشتون بمقابلہ پاکستان کے فریم ورک میں ڈھالنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ مسلسل نسلی بنیادوں پر بیانیہ قائم کرنے کا مقصد مسائل کا حل تلاش کرنا نہیں بلکہ معاشرے میں تقسیم اور اشتعال انگیزی کو فروغ دینا ہے۔ کسی بھی غیر مصدقہ نوٹیفکیشن کو حتمی حقیقت بنا کر پیش کرنا بلاوجہ کا خوف پیدا کرنے کے مترادف ہے۔
دہشت گردی پر خاموشی
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پی ٹی ایم ریاستی اداروں پر الزامات عائد کرنے میں تو بے حد پیش پیش رہتی ہے، تاہم خیبر پختونخوا میں شہریوں کے قتل، سکیورٹی فورسز پر حملوں، اور بھتہ خوری میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف مکمل خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ دہشت گرد عناصر کو نظر انداز کر کے صرف انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو نشانہ بنانا تنظیم کے دوہرے معیار کو عکاس کرتا ہے۔
پاکستان کی قربانیاں
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 94 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، جن میں عام شہریوں کے علاوہ مسلح افواج اور پولیس کے جوان شامل ہیں۔ اس کے باوجود پی ٹی ایم کا اصل دہشت گردوں پر توجہ دینے کے بجائے صرف ریاست کو نشانہ بنانا سوالات کھڑے کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے سیاسی، عسکری، انتظامی اور معاشی اداروں میں پشتون قوم کی بھرپور نمائندگی موجود ہے۔ ایک پوری بااختیار برادری کو مسلسل مظلوم اور بے اختیار ظاہر کرنا عام پشتونوں کی نہیں بلکہ پی ٹی ایم کی اپنی مخصوص سیاسی دکانداری کی ضرورت ہے۔
حقائق بمقابلہ سیاسی مفروضے
اگر کسی فرد یا واقعے سے متعلق سچی شکایت موجود ہو تو اس کی قانونی تحقیقات اور ذمہ داروں کا احتساب بالکل ہونا چاہیے۔ تاہم، انفرادی الزامات کو بنیاد بنا کر پورے ریاستی نظام پر “منظم نسلی جبر” کا لیبل لگانا حقائق کے برعکس سیاسی مفروضہ ہے۔
ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے اور دہشت گردی کے خطرے کو نظر انداز کرنے کا راست فائدہ صرف اور صرف ان پرتشدد عناصر کو ہوتا ہے جو خطے میں بدامنی چاہتے ہیں۔ پشتونوں کو اس وقت خوف اور شکایات کی سیاست کی نہیں بلکہ امن، ترقی اور شفاف حکمرانی کی ضرورت ہے۔
دیکھیے: چودہ سالہ جاسوس کی کہانی: بھارتی میڈیا کا بالی ووڈ طرز پراپیگنڈا بے نقاب