رحیمہ بی بی کیس میں ہونے والے حالیہ انکشافات نے ان تمام نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کے بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے جو چند ماہ قبل تک رحیمہ بی بی کی ‘جبری گمشدگی’ کا واویلا مچا رہی تھیں۔ سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں اور مبصرین کی جانب سے بلوچ وائس فار جسٹس اور BYC جیسی تنظیموں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت رحیمہ بی بی کے دہشت گرد نیٹ ورک میں شامل ہونے کے عمل کو ‘گمشدگی’ کا رنگ دے کر ریاست کے خلاف استعمال کیا۔
دہشت گردی کے لیے ‘سفارتی ڈھال’
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ردِعمل میں کہا گیا ہے کہ یہ تنظیمیں انسانی حقوق کی آڑ میں دراصل دہشت گردوں کو لاجسٹک اور سفارتی تحفظ فراہم کر رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ رحیمہ بی بی کو “لاپتہ” برانڈ کرنا انصاف کی تلاش نہیں بلکہ اس کی ایک عسکری سیل میں منتقلی کو چھپانے کے لیے ایک ‘اسموک اسکرین’ مہیا کرنا تھا۔ یہ انکشافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کس طرح معصوم لوگوں کی ہمدردیوں کو ریاست کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
Wow… A few months ago, Baloch Voice for Justice, BYC, and such so-called human rights organizations were campaigning aggressively about Raheema Baloch. Turns out that their loud, performative outrage was nothing more than a calculated smokescreen.
— Zagrain Baluch (@zagrain_baluch) April 18, 2026
It is honestly pathetic how… https://t.co/K7qd6EhTfJ pic.twitter.com/5sXf73GMBm
تنظیموں کی خاموشی اور عوامی سوالات
رحیمہ بی بی کے شوہر بابر یوسفزئی کے افغانستان فرار ہونے اور رحیمہ بی بی کی دہشت گردی کے مشن پر موجودگی کی حقیقت سامنے آنے کے بعد، ان مہم جو تنظیموں کی خاموشی معنی خیز ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں نے ایک المیہ تخلیق کیا، اسے ریاست کے خلاف استعمال کیا اور اس دوران وہ بخوبی جانتے تھے کہ رحیمہ بی بی کہاں اور کس مشن پر ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ تنظیمیں انسانی حقوق کی جنگ نہیں لڑ رہیں بلکہ اس شورش کا حصہ ہیں جو بلوچ معاشرے کے تانے بانے کو تباہ کر رہی ہے۔
ریاستی بیانیے کی فتح
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ رحیمہ بی بی کیس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ‘مسنگ پرسنز’ کے نام پر چلنے والی مہمات میں اکثر اوقات ایسے افراد شامل ہوتے ہیں جو خود دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث یا ان کے سہولت کار ہوتے ہیں۔ اس کیس نے ریاست کے اس مؤقف پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ انسانی حقوق کا لبادہ اوڑھ کر کچھ عناصر ملک دشمن ایجنڈے کی تکمیل کر رہے ہیں۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی تنظیموں اور ان کے مالی ذرائع کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ کس کے اشارے پر ریاست کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کر رہی ہیں۔