رحیمہ بی بی کیس: انسانی حقوق کے نام پر دہشت گردوں کی سہولت کاری؟ نام نہاد تنظیموں کا پراپیگنڈا بے نقاب

رحیمہ بی بی کیس نے ‘انسانی حقوق’ کی نام نہاد تنظیموں کے پروپیگنڈے کا پول کھول دیا؛ جبری گمشدگی کا شور مچانے والی تنظیمیں دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے ‘سہولت کار’ ثابت ہوئیں، سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل۔
رحیمہ بی بی کیس نے 'انسانی حقوق' کی نام نہاد تنظیموں کے پروپیگنڈے کا پول کھول دیا؛ جبری گمشدگی کا شور مچانے والی تنظیمیں دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے 'سہولت کار' ثابت ہوئیں، سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل۔

بلوچ وائس فار جسٹس اور جیسی تنظیموں کا رحیمہ بی بی سے متعلق مہم جوئی کا ڈراپ سین۔ مبصرین کے مطابق 'گمشدگی' کا بیانیہ دراصل دہشت گرد سیل میں منتقلی کو چھپانے کا حربہ تھا۔ سماجی کارکنوں کا شدید احتجاج۔

April 18, 2026

رحیمہ بی بی کیس میں ہونے والے حالیہ انکشافات نے ان تمام نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کے بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے جو چند ماہ قبل تک رحیمہ بی بی کی ‘جبری گمشدگی’ کا واویلا مچا رہی تھیں۔ سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں اور مبصرین کی جانب سے بلوچ وائس فار جسٹس اور BYC جیسی تنظیموں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت رحیمہ بی بی کے دہشت گرد نیٹ ورک میں شامل ہونے کے عمل کو ‘گمشدگی’ کا رنگ دے کر ریاست کے خلاف استعمال کیا۔

دہشت گردی کے لیے ‘سفارتی ڈھال’

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ردِعمل میں کہا گیا ہے کہ یہ تنظیمیں انسانی حقوق کی آڑ میں دراصل دہشت گردوں کو لاجسٹک اور سفارتی تحفظ فراہم کر رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ رحیمہ بی بی کو “لاپتہ” برانڈ کرنا انصاف کی تلاش نہیں بلکہ اس کی ایک عسکری سیل میں منتقلی کو چھپانے کے لیے ایک ‘اسموک اسکرین’ مہیا کرنا تھا۔ یہ انکشافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کس طرح معصوم لوگوں کی ہمدردیوں کو ریاست کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

تنظیموں کی خاموشی اور عوامی سوالات

رحیمہ بی بی کے شوہر بابر یوسفزئی کے افغانستان فرار ہونے اور رحیمہ بی بی کی دہشت گردی کے مشن پر موجودگی کی حقیقت سامنے آنے کے بعد، ان مہم جو تنظیموں کی خاموشی معنی خیز ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں نے ایک المیہ تخلیق کیا، اسے ریاست کے خلاف استعمال کیا اور اس دوران وہ بخوبی جانتے تھے کہ رحیمہ بی بی کہاں اور کس مشن پر ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ تنظیمیں انسانی حقوق کی جنگ نہیں لڑ رہیں بلکہ اس شورش کا حصہ ہیں جو بلوچ معاشرے کے تانے بانے کو تباہ کر رہی ہے۔

ریاستی بیانیے کی فتح

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ رحیمہ بی بی کیس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ‘مسنگ پرسنز’ کے نام پر چلنے والی مہمات میں اکثر اوقات ایسے افراد شامل ہوتے ہیں جو خود دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث یا ان کے سہولت کار ہوتے ہیں۔ اس کیس نے ریاست کے اس مؤقف پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ انسانی حقوق کا لبادہ اوڑھ کر کچھ عناصر ملک دشمن ایجنڈے کی تکمیل کر رہے ہیں۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی تنظیموں اور ان کے مالی ذرائع کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ کس کے اشارے پر ریاست کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کر رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

امریکی مڈٹرم انتخابات کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں برتری حاصل ہوگئی، ٹرمپ نے نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔

November 4, 2026

کالعدم بی ایل اے نے بشیر زیب بلوچ کو کمانڈر ان چیف کے عہدے سے الگ کر کے تمام اختیارات سینئر کمانڈ کونسل کے سپرد کر دیے ہیں۔

November 4, 2026

بلوچستان اور لکی مروت میں سکیورٹی کارروائیوں کے دوران خودکش بمبار سمیت 19 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے، پاک فوج کا ایک سپاہی شہید ہوا۔

November 4, 2026

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *