اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں؛ اعلیٰ حکومتی ذرائع نے پیر کو مذاکرات کے انعقاد کی تردید کر دی، شیڈول تاحال غیر واضح۔

April 18, 2026

کالعدم ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے؛ کرک سے تعلق رکھنے والے اہم کمانڈر کلیم اللہ عرف سیف العمر کو بدمزگی کے بعد اپنے ہی ساتھیوں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا

April 18, 2026

بنوں میں انڈس ہائی وے پر سکیورٹی فورسز کے قافلے پر دھماکہ؛ ایک اہلکار شہید اور تین زخمی، فورسز کا کانوائے پشاور سے بنوں آ رہا تھا، علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع۔

April 18, 2026

آبنائے ہرمز میں بھارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کے بعد نئی دہلی اور تہران کے مابین سفارتی کشیدگی؛ بھارت نے ایرانی سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرا دیا، تجارتی جہاز رانی کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ۔

April 18, 2026

میڈیا کا کردار محض خبر دینا نہیں بلکہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرنا بھی ہے۔ ایسے حساس وقت میں، جب ملک ایک اہم سفارتی کامیابی کے دہانے پر کھڑا ہو، ضروری ہے کہ میڈیا توازن برقرار رکھے۔ سنسنی خیزی یا ریٹنگز کی دوڑ میں ایسی خبروں کو اس انداز میں پیش کرنا جو بین الاقوامی سطح پر ملک کے تاثر کو متاثر کرے، دانشمندی نہیں۔

April 18, 2026

امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات میں شدید تعطل؛ صدر ٹرمپ کے ‘معاہدہ قریب ہے’ کے دعوؤں کو تہران نے مسترد کر دیا، آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام پر فریقین کے مؤقف میں تضاد برقرار۔

April 18, 2026

رحیمہ بی بی کیس: انسانی حقوق کے نام پر دہشت گردوں کی سہولت کاری؟ نام نہاد تنظیموں کا پراپیگنڈا بے نقاب

رحیمہ بی بی کیس نے ‘انسانی حقوق’ کی نام نہاد تنظیموں کے پروپیگنڈے کا پول کھول دیا؛ جبری گمشدگی کا شور مچانے والی تنظیمیں دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے ‘سہولت کار’ ثابت ہوئیں، سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل۔
رحیمہ بی بی کیس نے 'انسانی حقوق' کی نام نہاد تنظیموں کے پروپیگنڈے کا پول کھول دیا؛ جبری گمشدگی کا شور مچانے والی تنظیمیں دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے 'سہولت کار' ثابت ہوئیں، سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل۔

بلوچ وائس فار جسٹس اور جیسی تنظیموں کا رحیمہ بی بی سے متعلق مہم جوئی کا ڈراپ سین۔ مبصرین کے مطابق 'گمشدگی' کا بیانیہ دراصل دہشت گرد سیل میں منتقلی کو چھپانے کا حربہ تھا۔ سماجی کارکنوں کا شدید احتجاج۔

April 18, 2026

رحیمہ بی بی کیس میں ہونے والے حالیہ انکشافات نے ان تمام نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کے بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے جو چند ماہ قبل تک رحیمہ بی بی کی ‘جبری گمشدگی’ کا واویلا مچا رہی تھیں۔ سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں اور مبصرین کی جانب سے بلوچ وائس فار جسٹس اور BYC جیسی تنظیموں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت رحیمہ بی بی کے دہشت گرد نیٹ ورک میں شامل ہونے کے عمل کو ‘گمشدگی’ کا رنگ دے کر ریاست کے خلاف استعمال کیا۔

دہشت گردی کے لیے ‘سفارتی ڈھال’

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ردِعمل میں کہا گیا ہے کہ یہ تنظیمیں انسانی حقوق کی آڑ میں دراصل دہشت گردوں کو لاجسٹک اور سفارتی تحفظ فراہم کر رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ رحیمہ بی بی کو “لاپتہ” برانڈ کرنا انصاف کی تلاش نہیں بلکہ اس کی ایک عسکری سیل میں منتقلی کو چھپانے کے لیے ایک ‘اسموک اسکرین’ مہیا کرنا تھا۔ یہ انکشافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کس طرح معصوم لوگوں کی ہمدردیوں کو ریاست کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

تنظیموں کی خاموشی اور عوامی سوالات

رحیمہ بی بی کے شوہر بابر یوسفزئی کے افغانستان فرار ہونے اور رحیمہ بی بی کی دہشت گردی کے مشن پر موجودگی کی حقیقت سامنے آنے کے بعد، ان مہم جو تنظیموں کی خاموشی معنی خیز ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں نے ایک المیہ تخلیق کیا، اسے ریاست کے خلاف استعمال کیا اور اس دوران وہ بخوبی جانتے تھے کہ رحیمہ بی بی کہاں اور کس مشن پر ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ تنظیمیں انسانی حقوق کی جنگ نہیں لڑ رہیں بلکہ اس شورش کا حصہ ہیں جو بلوچ معاشرے کے تانے بانے کو تباہ کر رہی ہے۔

ریاستی بیانیے کی فتح

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ رحیمہ بی بی کیس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ‘مسنگ پرسنز’ کے نام پر چلنے والی مہمات میں اکثر اوقات ایسے افراد شامل ہوتے ہیں جو خود دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث یا ان کے سہولت کار ہوتے ہیں۔ اس کیس نے ریاست کے اس مؤقف پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ انسانی حقوق کا لبادہ اوڑھ کر کچھ عناصر ملک دشمن ایجنڈے کی تکمیل کر رہے ہیں۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی تنظیموں اور ان کے مالی ذرائع کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ کس کے اشارے پر ریاست کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کر رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں؛ اعلیٰ حکومتی ذرائع نے پیر کو مذاکرات کے انعقاد کی تردید کر دی، شیڈول تاحال غیر واضح۔

April 18, 2026

کالعدم ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے؛ کرک سے تعلق رکھنے والے اہم کمانڈر کلیم اللہ عرف سیف العمر کو بدمزگی کے بعد اپنے ہی ساتھیوں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا

April 18, 2026

بنوں میں انڈس ہائی وے پر سکیورٹی فورسز کے قافلے پر دھماکہ؛ ایک اہلکار شہید اور تین زخمی، فورسز کا کانوائے پشاور سے بنوں آ رہا تھا، علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع۔

April 18, 2026

آبنائے ہرمز میں بھارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کے بعد نئی دہلی اور تہران کے مابین سفارتی کشیدگی؛ بھارت نے ایرانی سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرا دیا، تجارتی جہاز رانی کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ۔

April 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *