ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں بنیادی تعطل خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوا، جبکہ سویلین عمل سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

October 4, 2026

طویل مذاکرات میں حکومت کے بڑے پن کے باوجود پی ٹی آئی نے انسدادِ دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان پر تعاون سے انکار کر کے انتشار کی راہ چن لی۔

October 4, 2026

سعودی عرب اور یمن نے بحیرہ احمر کی بحالی کیلئے حوثیوں کیخلاف مشترکہ فوجی کارروائی کا حتمی خاکہ تیار کر لیا۔

October 4, 2026

طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے تھا مگر اپوزیشن ٹیم کو کے پی سے ڈکٹیٹ کیا گیا، کے پی حکومت کے عدم تعاون پر مذاکرات ناکام ہوئے۔

October 4, 2026

راہول گاندھی نے مودی کو فراڈ قرار دیتے ہوئے بھارتی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت “آپریشن سندور” کے بعد تیزی سے گر چکی ہے اور ان کی حکومت اب عوامی تائید کے بجائے دھاندلی اور ادارہ جاتی کنٹرول کے ذریعے قائم ہے
مودی بمقابلہ راہول گاندھی

راہول گاندھی نے کہا کہ "یہ انتخابات نہیں تھے، بلکہ عوامی خودمختاری پر ڈاکہ تھا۔

August 17, 2025

کانگریس رہنما اور اپوزیشن لیڈرراہول گاندھی نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کو “ریاستی فراڈ” قرار دیتے ہوئے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت “آپریشن سندور” کے بعد تیزی سے گر چکی ہے اور ان کی حکومت اب عوامی تائید کے بجائے دھاندلی اور ادارہ جاتی کنٹرول کے ذریعے قائم ہے۔

“یہ انتخاب نہیں، خودمختاری کی چوری ہے” — راہول گاندھی

راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے پورے انتخابی عمل کو ہائی جیک کیا۔ مثال کے طور پر کرناٹک کے حلقہ مہادیو پورہ میں کانگریس نے 8 میں سے 7 اسمبلی سیٹیں جیتیں لیکن لوک سبھا سطح پر بی جے پی نے 1,00,250 جعلی ووٹ ڈال کر کامیابی حاصل کی۔

انتخابی فراڈ کے پانچ طریقہ کار

راہول گاندھی نے تحقیقات کے بعد الیکشن میں دھوکے کے پانچ بنیادی طریقے سامنے رکھے۔ ان میں سب سے پہلے ڈپلیکیٹ انٹریز شامل ہیں، جہاں 11,965 ووٹرز کو بار بار رجسٹر کیا گیا، بعض اوقات مختلف ریاستوں میں بھی۔ دوسرا طریقہ جعلی پتوں کا تھا، جن کی تعداد 40,009 نکلی، جہاں ووٹر لسٹ میں “0” یا فرضی گھر اور جعلی شناختی کارڈ درج کیے گئے۔

تیسرا طریقہ ایک ہی پتے پر درجنوں ووٹرز کے اندراج کا تھا، جہاں 10,452 کیسز میں ایک کمرے یا دکان پر سینکڑوں ووٹر رجسٹر کیے گئے۔ چوتھا طریقہ تصاویر میں چھیڑ چھاڑ تھا، جن کی تعداد 4,132 رہی، تاکہ مبہم یا غائب تصاویر کے ذریعے شناخت ممکن نہ ہو۔

پانچواں بڑا دھوکہ فارم 6 کے غلط استعمال کا تھا، جہاں 33,692 کیسز میں نوجوان ووٹروں کے فارم کو بوڑھوں کے ڈپلیکیٹ ووٹ ڈالنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

الیکشن کمیشن — بی جے پی کا آلہ کار؟

راہول گاندھی نے کہا کہ الیکشن کمیشن، جو ایک غیر جانبدار ادارہ ہونا چاہیے، دراصل بی جے پی کا آلہ کار بن گیا ہے۔ ووٹر لسٹوں تک رسائی روک دی گئی، پولنگ اسٹیشنز کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو دبا دیا گیا اور ڈیجیٹل ریکارڈز کا آڈٹ بھی مسترد کر دیا گیا۔

یہی موقف کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارامیا نے بھی اپنایا، جنہوں نے الیکشن کمیشن پر براہ راست “خیانت” کا الزام عائد کیا۔

بی جے پی کا ردعمل

بی جے پی نے ان الزامات کو “سیاسی ڈرامہ” قرار دیا، جبکہ الیکشن کمیشن نے راہول گاندھی کو “نام لے کر حلفیہ بیان دینے” کا چیلنج دیا۔ مبصرین کے مطابق یہ دباؤ اور دھمکانے کی حکمت عملی ہے تاکہ اصل سوالات کو دبایا جا سکے۔

بھارت کا جمہوری چہرہ بے نقاب

راہول گاندھی نے کہا کہ بھارت میں انتخابات اب عوامی مینڈیٹ نہیں بلکہ “پروگرام ایبل” اور “مینِیج ایبل” ہو چکے ہیں۔ مہاراشٹر، ہریانہ اور مدھیہ پردیش میں ووٹ مارجن غیر منطقی نکلے۔ یوپی اور گجرات میں ووٹروں کی تعداد مردم شماری سے میل نہیں کھاتی۔

ان کے مطابق یہ صرف بھارتی عوام کا مسئلہ نہیں بلکہ “عالمی جمہوریت کے لیے خطرہ” ہے۔

راہول گاندھی نے کہا کہ “یہ انتخابات نہیں تھے، بلکہ عوامی خودمختاری پر ڈاکہ تھا۔” انہوں نے عدالتی تحقیقات، سول سوسائٹی کی متحرک شمولیت اور عالمی برادری سے اس صورتحال پر توجہ کی اپیل کی۔

دیکھیں: پاک بھارت تنازعے میں ٹرمپ کا کردار؛ امریکی وزارتِ خارجہ کی تصدیق

متعلقہ مضامین

ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ سمیت آٹھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

October 4, 2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اس صورت میں پی ٹی آئی کے لیے وہ اکیلے ہی کافی ہیں۔

October 4, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں بنیادی تعطل خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی پر تحریری تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہوا، جبکہ سویلین عمل سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

October 4, 2026

طویل مذاکرات میں حکومت کے بڑے پن کے باوجود پی ٹی آئی نے انسدادِ دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان پر تعاون سے انکار کر کے انتشار کی راہ چن لی۔

October 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *