آزاد کشمیر کا اہم ترین شہر راولاکوٹ گزشتہ پانچ ماہ سے جاری مسلسل بندش اور ہڑتالوں کے باعث شدید بحران کا شکار ہے۔ تعلیمی اور سماجی شخصیت اسامہ قیوم اور آزاد کشمیر کی تعلیم یافتہ کمیونٹی نے حکام اور کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے فوری طور پر شہر کی حالتِ زار پر رحم کرنے کی اپیل کی ہے۔
ذریعوں کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے گرفتار شدگان کی جانب سے مختلف سنگین وارداتوں اور ہنگامہ آرائی میں ملوث ہونے کے اعترافات کے بعد عوامی تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ احتجاج کے نام پر خطے کے امن اور معیشت کو شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
آزاد کشمیر کی بیدار مغز اور تعلیم یافتہ کمیونٹی نے اہم گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ آزاد کشمیر میں سیاستدانوں اور نام نہاد رہنماؤں کی کرپشن کا خاتمہ صرف اور صرف ایک بااختیار کشمیر کونسل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
شہریوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ احتجاج کی آڑ میں امن و امان کی صورتِ حال کو خراب کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی وقت کی ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام اب مزید تعطل کے متحمل نہیں ہو سکتے اور راولاکوٹ کی معمولاتِ زندگی کو بحال کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔





