ٹرمپ کے بیان کے مطابق امریکی وفد پاکستان پہنچ کر ایران سے متعلق مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائے گا۔ اگرچہ انہوں نے وفد کے ارکان یا مذاکرات کے مکمل ایجنڈے کی تفصیل نہیں دی، تاہم ان کے اعلان سے یہ اشارہ ملا ہے کہ اسلام آباد ایک مرتبہ پھر امریکا ایران رابطوں کے لیے مرکزی مقام بن رہا ہے۔
مظفرآباد میں ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اگر حکومت عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل نہ کرتی تو نظام کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے تھے، تاہم قلیل وقت اور دباؤ کے باوجود عوام میں امید پیدا کرنا ایک اہم پیشرفت ہے۔
پاکستان کی معیشت، توانائی ضروریات، خلیجی ممالک کے ساتھ مالی روابط، افرادی قوت کی منتقلی اور سفارتی تعلقات اب پہلے سے زیادہ مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیا سے جڑ چکے ہیں، اسی لیے عالمی ادارے اسے وسیع تر تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسند کی شناخت عبداللہ جان عرف ابو دجانہ کے نام سے ہوئی ہے، جو افغان صوبہ پکتیا کے ضلع گردیز کا رہائشی تھا۔وہ مبینہ طور پر ٹی ٹی پی سے وابستہ تھا اور خوست کے علاقے سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
پاکستان نے حالیہ بحران میں ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر تعاون کیا اور جنگ بندی کی کوششوں میں کردار ادا کیا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس بھارت اس پورے عمل میں غیر فعال دکھائی دیا اور اس کی سفارتی موجودگی نمایاں نہیں رہی۔
اتوار کو اسلام آباد کے معروف فائیو سٹار ہوٹل میریٹ کی انتظامیہ نے مہمانوں کو ہدایت کی کہ وہ دوپہر تین بجے تک ہوٹل خالی کر دیں۔ ہوٹل کے جنرل مینیجر کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان نے ایک اہم ایونٹ کے لیے مکمل ہوٹل حاصل کر لیا ہے، جبکہ مہمانوں کے لیے متبادل انتظامات کی پیشکش بھی کی گئی۔