اسلام آباد: ورلڈ بینک نے پاکستان کو اپنی روایتی جنوبی ایشیا کی درجہ بندی سے نکال کر مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل نئے علاقائی فریم ورک میں شامل کر دیا ہے، جسے ماہرین ایک اہم مگر تکنیکی نوعیت کی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق یہ تبدیلی کسی باضابطہ بڑے اعلان کے بجائے ادارے کے ڈیٹا اور تجزیاتی دستاویزات میں سامنے آئی، جہاں پاکستان اور افغانستان کو اب جنوبی ایشیا کے بجائے ایک وسیع تر مغربی ایشیائی خطے کا حصہ دکھایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام کو جغرافیائی یا سیاسی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ ایک انتظامی اور تجزیاتی ایڈجسٹمنٹ ہے، جس کا مقصد ممالک کو ان کی معاشی، سکیورٹی اور علاقائی وابستگیوں کے تناظر میں بہتر انداز میں سمجھنا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت، توانائی ضروریات، خلیجی ممالک کے ساتھ مالی روابط، افرادی قوت کی منتقلی اور سفارتی تعلقات اب پہلے سے زیادہ مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیا سے جڑ چکے ہیں، اسی لیے عالمی ادارے اسے وسیع تر تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے جو جنوبی ایشیا، خلیج، وسط ایشیا اور بحیرہ عرب کے درمیان رابطے کا کردار ادا کر سکتا ہے، جسے ماہرین “پل نما معیشت” سے تعبیر کر رہے ہیں۔
مزید برآں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک پاکستان کے اہم مالی اور سفارتی شراکت دار بن کر ابھرے ہیں، جبکہ لاکھوں پاکستانی کارکن خلیجی ممالک میں کام کر رہے ہیں اور ترسیلات زر کے ذریعے ملکی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس نئی درجہ بندی کے بعد مستقبل میں ورلڈ بینک کی رپورٹس، تقابلی تجزیوں اور پالیسی مباحث میں پاکستان کو جنوبی ایشیا کے بجائے اس نئے خطے کے ممالک کے ساتھ زیادہ جوڑا جا سکتا ہے، جس سے اس کی عالمی معاشی پوزیشننگ پر اثر پڑ سکتا ہے۔
تاہم تجزیہ کار واضح کرتے ہیں کہ اس تبدیلی سے پاکستان کی جغرافیائی یا ثقافتی شناخت تبدیل نہیں ہوتی۔ پاکستان تاریخی، لسانی اور سماجی طور پر جنوبی ایشیا کا حصہ رہے گا اور یہ درجہ بندی محض ایک ادارہ جاتی نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس پیشرفت کو پاکستان کی بدلتی ہوئی معاشی اور سفارتی سمت کے اعتراف کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ملک اب صرف جنوبی ایشیائی تناظر تک محدود نہیں بلکہ وسیع تر علاقائی کردار ادا کر رہا ہے۔
دیکھئیے:پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی؛ اسٹیٹ بینک کی تصدیق