پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی پارٹی کے مجوزہ لانگ مارچ کے معاملے پر شدید تنقید اور سوشل میڈیا مہم کا سامنا کرنے کے بعد براہِ راست ٹی وی پروگرام میں جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہو گئے۔
شوکت یوسفزئی نے گزشتہ روز بیرسٹر گوہر اور مرکزی قیادت کو خط لکھ کر ملک کے وسیع تر مفاد میں لانگ مارچ فوری مؤخر کرنے کی تجویز دی تھی۔ اس تجویز کے منظرِ عام پر آتے ہی وہ پارٹی کے اندر اور سوشل میڈیا پر شدید نشانے پر آ گئے، جب کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ان کا خط ملنے پر اسے کچرے کے ڈبے میں پھینکنے کا اعلان کیا تھا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ سینئر رکن ہونے کی حیثیت سے انہوں نے اصولی خدشات کا اظہار کیا تھا، مگر افسوس کہ ان کی وفاداری کو مشکوک بنا دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھ پر بک جانے کا بے بنیاد شک کیا جا رہا ہے، جس سے انہیں شدید دکھ پہنچا ہے۔
سابق صوبائی وزیر نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے سخت مؤقف پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سہیل آفریدی سے اس نوعیت کے ردِعمل کی توقع نہیں تھی۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ ماضی میں وہ ہمیشہ پارٹی قیادت اور ساتھیوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے ہیں۔
شوکت یوسفزئی نے سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی تضحیک آمیز مہم کو پارٹی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے پی ٹی آئی چھوڑنے کے تمام تر امکانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ 9 مئی کے بعد ہر مشکل وقت میں پارٹی کا ساتھ نبھایا ہے اور اب بھی تحریک انصاف سے راہیں جدا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
دیکھیے: حالات سازگار نہیں، لانگ مارچ کا فیصلہ فوری مؤخر کریں: پی ٹی آئی رہنما