پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی شہرام خان ترکئی خود گرفتاری دینے حسن ابدال پولیس کے پاس پہنچ گئے، تاہم پولیس نے انہیں گرفتار کرنے سے انکار کردیا۔
ذرائع کے مطابق شہرام ترکئی حسن ابدال پولیس کے پاس پہنچے اور خود کو گرفتاری کے لیے پیش کیا۔ انہوں نے پولیس سے کہا کہ اگر ان کے خلاف مقدمہ ہے تو انہیں گرفتار کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں بتایا کہ وہ انہیں گرفتار نہیں کر سکتی۔ پولیس نے مبینہ طور پر شہرام ترکئی سے کہا کہ وہ خیبر پختونخوا جا سکتے ہیں۔
اس کے بعد شہرام ترکئی کو ان کی گاڑی سمیت اٹک پل کے راستے خیبر پختونخوا واپس بھیج دیا گیا۔
گرفتاری اور اغوا
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے حوالے سے سیاسی سطح پر مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کی جانب سے بعض رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں پر اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں۔ دوسری جانب حکومت اور پولیس کی جانب سے بعض گرفتاریوں کی قانونی کارروائی کے طور پر وضاحت کی گئی ہے۔
رواں ماہ انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی کے 24 ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ فہرست میں شہرام ترکئی سمیت اسد قیصر، عمر ایوب، جنید اکبر اور دیگر رہنما شامل ہیں۔
لانگ مارچ
یہ معاملہ 27 ستمبر کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج اور لانگ مارچ کی کال سے قبل سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک میں سکیورٹی انتظامات بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق تینوں شہروں میں نفری بڑھا کر تقریباً 50 ہزار کردی گئی ہے۔
شہرام ترکئی کو گرفتاری کے لیے پیش کیے جانے اور پولیس کی جانب سے گرفتار نہ کرنے کے واقعے نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں سے متعلق جاری سیاسی بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
دیکھیے: پی ٹی آئی 27 ستمبر مارچ: تیاریوں کے دوران اسلحے کی نمائش کی ویڈیو سامنے آ گئی