امریکی کانگریس کی رکن پرمیلا جیاپال امریکہ میں ایل جی بی ٹی کیو پلس کمیونٹی کے حقوق اور ہم جنس پرستوں کی شادی کی کھل کر حمایت کرنے کے لیے جانی جاتی ہیں۔ ان کی سیاسی جدوجہد میں مذہبی و سماجی آزادی کے ساتھ ایسے قوانین کی ترویج شامل ہے، جنہیں امریکی لبرل حلقے اہم سمجھتے ہیں۔
پاکستان میں سیاسی حلقوں نے اس پر سوالات اٹھائے ہیں کہ ایسے امریکی قانون ساز، جن کے نظریات پاکستان کے خاندانی نظام اور مذہبی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتے، انہیں بعض سیاسی جماعتیں اپنے مؤقف کی حمایت کے لیے کیوں سامنے لاتی ہیں۔ ناقدین کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے متعدد مواقع پر پرمیلا جیاپال سمیت امریکی ارکانِ کانگریس سے رابطے کیے اور انہیں پاکستان کے داخلی امور پر اظہارِ خیال کی دعوت دی۔
سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ امریکی سیاست دان اگر پاکستان کے سیاسی یا انسانی حقوق سے متعلق بیانات دیتے ہیں، تو ان کے ذاتی نظریات اور قانون سازی کے اہداف بھی ساتھ جڑے ہوتے ہیں، جس سے مستقبل میں پاکستان پر نظریاتی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مبصرین کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں مذہبی اور خاندانی اقدار آئینی و سماجی حیثیت رکھتی ہیں، اس لیے ایسی شخصیات کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں ملک کی نظریاتی بنیادوں سے متصادم تصوّر کی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق بیرونی سیاسی تائید پر انحصار قومی خود مختاری اور فیصلہ سازی پر سوال اٹھاتا ہے۔
تاہم پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا انسانی حقوق اور جمہوری عمل کے فروغ کے لیے ضروری ہے اور اسے کسی مخصوص نظریے یا ایجنڈے کے فروغ سے جوڑنا درست نہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اپنی خارجہ اور سفارتی ترجیحات وضع کرتے وقت ملک کی نظریاتی حساسیت اور قومی سلامتی کے پہلوؤں کو ہر حال میں مقدم رکھنا چاہیے۔