سوشل میڈیا پر جاری بیانات میں سخت زبان استعمال کی گئی ہے اور بعض شخصیات کو القابات دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی اور ذمہ دارانہ صحافت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی فرد پر الزامات عائد کرنے سے قبل شواہد اور قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھنا لازم ہے۔

February 21, 2026

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف مقدمے کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر مقرر کر دی گئی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق کیس کے قانونی پہلوؤں اور شواہد کا جائزہ آئندہ پیشیوں میں لیا جائے گا۔

February 21, 2026

سیاسی کارکن ایک نعمت ہوتا ہے مگر سیاسی کارکن شعور کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ وہ بے لگام عصبیت کا اندھا مجاور نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ہر عصبیت کے گرد زباں بکف کارکنان ہیں ۔ ہر رہنما کے گرد اس کے حصے کے بے وقوفوں کی فصیل ہے۔ یہ کسی دلیل کے محتاج نہیں ، ان کے لے ان کا قائد ہی معیار حق ہے۔ معاشرہ ان کے ہاتھوں یر غمال ہے ، اس کا دم گھٹ رہا ہے۔

February 21, 2026

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں پر قبضے کے لیے طالبان قیادت کے قریبی گروہ نے بھاری مسلح نفری تعینات کر دی ہے، جس سے مقامی اور مرکزی دھڑوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے

February 20, 2026

سپریم کورٹ نے کھانسی کی شربت سے بچوں کی ہلاکتوں کے الزام پر فارما کمپنی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور طلبی کے نوٹس ختم کرنے سے انکار کر دیا

February 20, 2026

شمالی وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ وزیر کی باؤلنگ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جہاں جاوید آفریدی نے انہیں زلمی ویمن لیگ میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے، وہیں محسن داؤر نے انکشاف کیا ہے کہ وہ چند ماہ قبل جاں بحق ہونے والے استاد عمر گل کی صاحبزادی ہیں

February 20, 2026

افواہوں کے سوداگر اور سوشل میڈیا پر جھوٹ کا بازار

سوشل میڈیا پر جاری بیانات میں سخت زبان استعمال کی گئی ہے اور بعض شخصیات کو القابات دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی اور ذمہ دارانہ صحافت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی فرد پر الزامات عائد کرنے سے قبل شواہد اور قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھنا لازم ہے۔
افواہوں کے سوداگر اور سوشل میڈیا پر جھوٹ کا بازار

ڈیجیٹل میڈیا کے مبصرین کے مطابق پاکستان میں آن لائن صحافت اور تبصرے کا دائرہ وسیع ہوا ہے، لیکن اس کے ساتھ غلط معلومات اور غیر مصدقہ خبروں کا مسئلہ بھی بڑھا ہے۔

February 21, 2026

حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک نئے بیانیے کے تحت چند معروف آن لائن شخصیات اور وی لاگرز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بعض افراد روزانہ کی بنیاد پر غیر مصدقہ معلومات، قیاس آرائیوں اور سنسنی خیز دعوؤں کے ذریعے عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔

مہم چلانے والوں کا مؤقف ہے کہ مخصوص سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور تبصرہ نگار بغیر مستند ذرائع کے ریاستی اداروں پر الزامات عائد کرتے اور اشتعال انگیز بیانات نشر کرتے ہیں، جس سے معاشرے میں بے چینی اور بداعتمادی کو فروغ ملتا ہے۔ ان کے مطابق یہ عناصر “جھوٹ اور افواہوں” کو بطور کاروبار استعمال کرتے ہوئے بیرونِ ملک ناظرین اور مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری بیانات میں سخت زبان استعمال کی گئی ہے اور بعض شخصیات کو القابات دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی اور ذمہ دارانہ صحافت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی فرد پر الزامات عائد کرنے سے قبل شواہد اور قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھنا لازم ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا کے مبصرین کے مطابق پاکستان میں آن لائن صحافت اور تبصرے کا دائرہ وسیع ہوا ہے، لیکن اس کے ساتھ غلط معلومات اور غیر مصدقہ خبروں کا مسئلہ بھی بڑھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ وہ خبروں کی تصدیق کریں، مختلف ذرائع کا جائزہ لیں اور سنسنی خیز دعوؤں پر فوری یقین نہ کریں۔

دوسری جانب جن افراد کو اس مہم کا ہدف بنایا جا رہا ہے، ان کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ آن لائن مباحث کو ذاتی حملوں کے بجائے دلیل اور شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھانا زیادہ مؤثر ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سوشل میڈیا دور میں معلومات کی رفتار تیز ہے، اس لیے ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ریاستی اداروں، صحافتی برادری اور عوام سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جھوٹ اور افواہوں کے سدباب کے لیے قانون، شفافیت اور میڈیا لٹریسی کو فروغ دینا ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

دیکھیے: عمران خان کی صحت، قانونی حقوق اور احتجاجی سیاست پر سیاسی محاذ آرائی تیز

متعلقہ مضامین

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف مقدمے کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر مقرر کر دی گئی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق کیس کے قانونی پہلوؤں اور شواہد کا جائزہ آئندہ پیشیوں میں لیا جائے گا۔

February 21, 2026

سیاسی کارکن ایک نعمت ہوتا ہے مگر سیاسی کارکن شعور کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ وہ بے لگام عصبیت کا اندھا مجاور نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں ہر عصبیت کے گرد زباں بکف کارکنان ہیں ۔ ہر رہنما کے گرد اس کے حصے کے بے وقوفوں کی فصیل ہے۔ یہ کسی دلیل کے محتاج نہیں ، ان کے لے ان کا قائد ہی معیار حق ہے۔ معاشرہ ان کے ہاتھوں یر غمال ہے ، اس کا دم گھٹ رہا ہے۔

February 21, 2026

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں پر قبضے کے لیے طالبان قیادت کے قریبی گروہ نے بھاری مسلح نفری تعینات کر دی ہے، جس سے مقامی اور مرکزی دھڑوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے

February 20, 2026

سپریم کورٹ نے کھانسی کی شربت سے بچوں کی ہلاکتوں کے الزام پر فارما کمپنی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور طلبی کے نوٹس ختم کرنے سے انکار کر دیا

February 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *