حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک نئے بیانیے کے تحت چند معروف آن لائن شخصیات اور وی لاگرز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بعض افراد روزانہ کی بنیاد پر غیر مصدقہ معلومات، قیاس آرائیوں اور سنسنی خیز دعوؤں کے ذریعے عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔
مہم چلانے والوں کا مؤقف ہے کہ مخصوص سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور تبصرہ نگار بغیر مستند ذرائع کے ریاستی اداروں پر الزامات عائد کرتے اور اشتعال انگیز بیانات نشر کرتے ہیں، جس سے معاشرے میں بے چینی اور بداعتمادی کو فروغ ملتا ہے۔ ان کے مطابق یہ عناصر “جھوٹ اور افواہوں” کو بطور کاروبار استعمال کرتے ہوئے بیرونِ ملک ناظرین اور مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری بیانات میں سخت زبان استعمال کی گئی ہے اور بعض شخصیات کو القابات دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی اور ذمہ دارانہ صحافت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی فرد پر الزامات عائد کرنے سے قبل شواہد اور قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھنا لازم ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا کے مبصرین کے مطابق پاکستان میں آن لائن صحافت اور تبصرے کا دائرہ وسیع ہوا ہے، لیکن اس کے ساتھ غلط معلومات اور غیر مصدقہ خبروں کا مسئلہ بھی بڑھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ وہ خبروں کی تصدیق کریں، مختلف ذرائع کا جائزہ لیں اور سنسنی خیز دعوؤں پر فوری یقین نہ کریں۔
دوسری جانب جن افراد کو اس مہم کا ہدف بنایا جا رہا ہے، ان کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ آن لائن مباحث کو ذاتی حملوں کے بجائے دلیل اور شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھانا زیادہ مؤثر ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سوشل میڈیا دور میں معلومات کی رفتار تیز ہے، اس لیے ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ریاستی اداروں، صحافتی برادری اور عوام سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جھوٹ اور افواہوں کے سدباب کے لیے قانون، شفافیت اور میڈیا لٹریسی کو فروغ دینا ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
دیکھیے: عمران خان کی صحت، قانونی حقوق اور احتجاجی سیاست پر سیاسی محاذ آرائی تیز