امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن مذاکرات میں تعطل کے بعد آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت امریکی بحریہ آج شام سے اس اہم عالمی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کی سخت نگرانی اور روک ٹوک شروع کرے گی تاکہ ایران کی تیل کی تجارت کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ قدم ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے وعدے کی خلاف ورزی اور اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے تہران پر ’عالمی بھتہ خوری‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کسی بھی ایسے جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دے گا جس نے ایران کو راہداری فیس ادا کی ہو۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پیر کو 14:00 جی ایم ٹی سے نافذ العمل ہوگی۔
عالمی معیشت پر اثرات
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس اب روس اور سعودی عرب سے بھی زیادہ تیل موجود ہے، اس لیے ایران کی بلیک میلنگ اب کام نہیں آئے گی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب، ناکہ بندی کے اس اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
تہران کا ردعمل اور ممکنہ تصادم کا خطرہ
ایران نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران نے مذاکرات میں نیک نیتی دکھائی لیکن وہ دباؤ کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گا۔ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جس سے خطے میں براہِ راست فوجی تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔