پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں افغان طالبان اور القاعدہ براہِ راست ملوث، این آر ایف

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ علی نذاری نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے نام پر کیے جانے والے حملے اصل میں افغان طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں کے ذریعے کیے جاتے ہیں
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ علی نذاری نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے نام پر کیے جانے والے حملے اصل میں افغان طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں کے ذریعے کیے جاتے ہیں

این آر ایف کے مطابق ہر ہفتے غیر ملکی جنگجو افغان طالبان کے حکم پر افغانستان میں تربیت کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتے ہیں

December 9, 2025

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے سربراہ برائے خارجہ تعلقات علی نذاری نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے نام پر کیے گئے حملے اصل میں افغان طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں کے ذریعے کیے جاتے ہیں، جو حملہ آور گروہوں میں شامل ہوکر سرانجام دیتے ہیں۔

علی نذاری کے مطابق مذکورہ رپورٹ غلط فہمی یا حقائق کے برعکس نہیں ہے بلکہ افغان طالبان کی سرپرستی میں منظم دہشت گردی کا سلسلہ ہے۔ نیز افغان اپوزیشن سمیت متعدد گروہ بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ازبکستانی اسلامی تحریک، طالبان کے مختلف گروہ اور القاعدہ ایک مشترکہ دہشت گرد نیٹ ورک کے طور پر کام کرتے ہیں۔ انکے نام مختلف نام ہو سکتے ہیں لیکن دہشت گرد اور سرپرست ایک ہی ہیں۔ علی نذاری نے یہ بھی کہا ہے کہ افغان طالبان اور القاعدہ کے جنگجو ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ افغان طالبان محض تماشائی یا ان سرگرمیوں سے بے خبر نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی میں اپنا بھرپور کردار اد کر رہے ہیں۔

این آر ایف کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے یونٹس ٹی ٹی پی، الزر اللہ اور القاعدہ کے جنگجوؤں کو باآسانی ایک دوسرے کے ساتھ تعینات کرتے ہیں۔ لہذا یہ کوئی اتفاقی کارروائی نہیں بلکہ ریاستی سطح پر منظم دہشت گردی ہے۔

مزاحمتی گروہوں کے مطابق ہر ہفتے غیر ملکی جنگجو افغان طالبان کے حکم پر افغانستان میں لڑنے کے لیے آتے ہیں اور پھر وہی جنگجو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔این ار ایف کی رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ افغان طالبان کے دعوے جھوٹے ہیں۔

علی نذاری نے مزید کہا کہ جب افغان ذرائع اور رپورٹس خود کہتی ہیں کہ یہ سب گروہ ایک جیسے ہیں فقط نام اور پہچان مخلتلف ظاہر کرتے ہیں، تو یہ افغان طالبان کی منافقت اور دوہری پالیسی کو بے نقاب کرتا ہے۔ افغان طالبان خود دہشت گردانہ کرتے ہیں اور پھر ذمہ داری سے لینے سے انکار کرتے ہوئے اصطلاحات اور مذاکرات کے پردے میں چھپ جاتے ہیں۔

دیکھیں: جنگ نہیں، مذاکرات ہی پاک افغان مسئلے کا مستقل حل ہے؛ انوار الحق کاکڑ

متعلقہ مضامین

محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے 5 اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔

November 4, 2026

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *