افغانستان کے صوبہ بدخشان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق طالبان کی انٹیلی جنس ایجنسی نے صوبائی دارالحکومت فیض آباد سے ممتاز ازبک ثقافتی و سماجی کارکن مسعود تیمور کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مسعود تیمور کو تین روز قبل، جمعہ 29 جوزا کو طالبان کے انٹیلی جنس حکام نے حراست میں لیا تھا، تاہم گرفتاری کو تین روز گزر جانے کے باوجود اب تک ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آسکیں اور نہ ہی ان کے اہل خانہ کو ان تک رسائی دی گئی ہے۔
گرفتاری کی وجوہات
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسعود تیمور کی گرفتاری ان کی سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کے باعث عمل میں آئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ افغانستان میں ترک النسل اقوام کی شناخت اور ان کے حقوق کا دفاع کر رہے تھے، جبکہ انہوں نے حال ہی میں صوبہ ہرات میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی سوشل میڈیا پر کھل کر حمایت کی تھی۔
طالبان حکام کی خاموشی
بدخشان میں طالبان کے مقامی انتظامی اور انٹیلی جنس حکام نے تاحال اس گرفتاری کے حوالے سے کوئی بھی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا اور نہ ہی ان پر عائد الزامات کی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے آزادیِ اظہارِ رائے پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں سے مسلسل ایسی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں جہاں متعدد سماجی کارکنوں، نوجوانوں، صحافیوں اور ناقدین کو سوشل میڈیا پر تنقیدی آراء اور پوسٹس شائع کرنے کی پاداش میں طالبان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے نشانہ بنایا گیا اور گرفتار کیا گیا ہے۔
دیکھیے: طالبان دور میں میڈیا پر بڑھتا دباؤ، 677 افغان صحافی جلاوطنی پر مجبور