افغانستان کی طالبان حکومت کے وزیر زراعت عطا عمری نے بھارت کے دورے کے دوران مسلم تاریخ کی اہم ترین شخصیت سلطان محمود غزنوی کی تاریخی فتوحات کو غلطی قرار دے دیا ہے۔ ان کے اس غیر متوقع اور خوشامدانہ بیان کو تاش کے پتے کی طرح بکھرتی طالبان پالیسی اور بھارتی آشیرباد حاصل کرنے کی ایک مذموم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق طالبان حکومت کے وزیر زراعت عطا عمری نے 12 جولائی کو نئی دہلی کا دورہ کیا، جہاں بھارتی حکام سے ملاقاتوں کے بعد انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سلطان محمود غزنوی نے بتوں کو تباہ کر کے غلطی کی تھی اور تمام مذاہب کا یکساں احترام کیا جانا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے طالبان حکومت بھارت کو خوش کرنے کے لیے اس حد تک گر چکی ہے کہ وہ گیاہویں صدی کے تاریخی حقائق اور مسلم بیانیے کو بھی مسخ کرنے پر اتر آئی ہے۔
ماہرین کے مطابق طالبان سے اس کے علاوہ اور کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے موجودہ سفارتی اور سیاسی مفادات کی خاطر اسلامی تاریخ کو مسخ کریں؟ محمود غزنوی نے 998 سے 1030 تک تقریباً 33 سال انتہائی کامیابی سے حکومت کی اور غزنوی سلطنت کو مشرقی اسلامی دنیا کی عظیم ترین سیاسی و جغرافیائی طاقت کا مرکز بنایا۔ تاریخ کے اس عظیم دھارے کو موجودہ کٹھ پتلی طالبان وزراء محض ایک سیاسی بیان کے لیے مسترد کر رہے ہیں۔
تاریخی تناظر میں 1025 کی سومنات مندر کی مہم اسلامی تاریخ کا ایک یادگار اور کلیدی واقعہ ہے، جسے ایک مدمقابل حریف سلطنت کے خلاف اسلامی سیاسی اقتدار اور رعب کے اظہار کی علامت مانا جاتا ہے۔ غزنوی کی میراث علم و تحقیق اور فتوحات کے وسیع تناظر سے جڑی ہے، لیکن طالبان کے وزیر نے مضحکہ خیز حد تک اس صدیوں پر محیط علمی روایت کو نظر انداز کر کے بھارت کی ہاں میں ہاں ملانے کو ترجیح دی ہے۔
سب سے دلچسپ اور منافقانہ پہلو یہ ہے کہ موجودہ دور میں جہاں بھارت کے اندر اتر پردیش سمیت مختلف خطوں میں تاریخی مساجد کی مسماری کے سنگین الزامات سامنے آ رہے ہیں، وہاں بھارت کے قریب سمجھے جانے والے ان طالبان رہنماؤں کے منہ مکمل طور پر سلے ہوئے ہیں۔ مساجد کے انہدام پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے والے یہ طالبان وزراء نئی دہلی کے اشارے پر مسلم فاتحین کے کردار پر انگلی اٹھانے میں مصروف ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں بین المذاہب رواداری کا اصول اپنانے کے لیے ماضی کے عظیم مسلم حکمرانوں کو غلط ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ طالبان کے وزیر کا یہ بیانیہ واضح کرتا ہے کہ یہ کوئی علمی یا تاریخی تحقیق نہیں، بلکہ نئی دہلی کے دربار میں حاضری کا وہ سیاسی نذرانہ ہے جس کے ذریعے طالبان اپنی سیاسی تنہائی دور کرنے کے لیے مسلم تاریخ کو ہی داؤ پر لگا رہے ہیں۔