تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اب صرف پاکستان یا کسی مخصوص سرحدی علاقے تک محدود نہیں رہی۔ حالیہ واقعات اور مختلف رپورٹس سے اس کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی روابط اور غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی کا پتا چلتا ہے۔
ٹی ٹی پی کی صفوں میں افغانستان، ازبکستان، تاجکستان، بنگلہ دیش اور ایران سے تعلق رکھنے والے افراد کی موجودگی سامنے آ چکی ہے۔ اس صورتحال نے گروپ کو ایک بڑھتے ہوئے بین الاقوامی نوعیت کے سکیورٹی خطرے کے طور پر نمایاں کیا ہے۔
حالیہ کارروائی میں شمالی وزیرستان میں متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ ان میں ایرانی شہری محمد فاتح بھی شامل تھا۔
محمد فاتح اس سے قبل القاعدہ کی ایک ذیلی شاخ سے وابستہ رہا تھا۔ وہ شام میں اس گروپ کی کارروائیوں میں بھی حصہ لے چکا تھا۔ بعد ازاں وہ آٹھ ماہ سے زائد عرصہ قبل ٹی ٹی پی میں شامل ہوا۔
یہ واقعہ ٹی ٹی پی کے غیر ملکی دہشت گردوں سے بڑھتے ہوئے روابط کی ایک اور مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔
غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی
ستمبر 2025 کو سکیورٹی فورسز نے کرک میں بنگلہ دیشی شہری اور ٹی ٹی پی سے وابستہ دہشت گرد فیصل حسین مورول کو ہلاک کیا تھا۔
اسی طرح حالیہ انٹیلی جنس بنیادوں پر کی جانے والی کارروائیوں میں ٹی ٹی پی کی صفوں میں موجود 200 سے زائد افغان شہریوں کو بھی ہلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
یوں افغانستان، ازبکستان، تاجکستان، بنگلہ دیش اور ایران کے شہریوں کی موجودگی ٹی ٹی پی کے بڑھتے ہوئے غیر ملکی نیٹ ورک کی نشاندہی کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی 38ویں رپورٹ میں بھی ٹی ٹی پی کے القاعدہ سے روابط کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں دونوں گروہوں کے درمیان تربیتی اور عملی روابط موجود ہیں۔
رپورٹ میں افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی کے 2 ہزار سے زائد ارکان اور وابستگان کی موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ٹی ٹی پی اپنی کارروائیوں کے لیے بیرونی معاونت، سہولت کاری کے نیٹ ورکس، غیر ملکی ارکان اور محفوظ پناہ گاہوں پر انحصار کرتی ہے۔
پانچ زبانوں میں پرایگنڈا مواد
ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں صرف جنگجوؤں اور مسلح کارروائیوں تک محدود نہیں۔ گروپ اردو، انگریزی، پشتو، عربی اور بنگلہ زبانوں میں بھی مواد شائع کرتا ہے۔
یہ سرگرمی اس کے بڑھتے ہوئے غیر ملکی رابطوں اور اثر و رسوخ کی کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔
غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی، القاعدہ سمیت دیگر دہشت گرد نیٹ ورکس سے روابط اور بیرونی معاونت کے باعث ٹی ٹی پی کا خطرہ پاکستان کی سرحدوں تک محدود نہیں رہا۔
اس کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی روابط ظاہر کرتے ہیں کہ ٹی ٹی پی ایک مقامی مسلح گروپ کے بجائے ایک وسیع تر سرحد پار سکیورٹی چیلنج کی شکل اختیار کر رہی ہے۔
دیکھیے: طالبان قیادت میں بڑی تبدیلی؟ ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جگہ نیا نام سامنے آگیا