افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان قیادت کی جانب سے انٹرنیٹ سروسز کی بندش کا ایک بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے افغان ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کو براہِ راست ہدایت جاری کی ہے کہ کابل بھر میں رہائشی علاقوں کے لیے فراہم کی جانے والی فائبر آپٹک وائی فائی انٹرنیٹ سروسز کو فوری طور پر بند کر دیا جائے۔
معلومات پر کنٹرول
اس اقدام کو عالمی سطح پر افغان عوام کو دنیا سے الگ تھلگ کرنے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد معلومات کی فراہمی پر کنٹرول حاصل کرنا اور آزادیِ اظہارِ رائے کی جگہ کو مزید محدود کرنا ہے۔
کابل کے شہریوں اور انسانی حقوق کے حلقوں نے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے افغان عوام کے لیے ایک اور “تاریک دن” قرار دیا ہے، جہاں پہلے ہی بنیادی حقوق کے حوالے سے صورتحال ابتر ہے۔
⭕️Taliban Orders Internet Blackout in Kabul
— Pak-Afghan Matters (@pakafghanmatter) May 11, 2026
Mullah Haibatullah Akhundzada has directed the Telecommunications Regulatory Authority – ATRA to cut off fiber optic Wi-Fi internet for residents across Kabul.
This draconian move further isolates the Afghan people from the world,… pic.twitter.com/hURxbRdRlt
ڈیجیٹل تنہائی کے سماجی و معاشی اثرات
انٹرنیٹ کی بندش سے نہ صرف عام شہریوں کا رابطہ منقطع ہوگا بلکہ تعلیمی سرگرمیاں اور آن لائن کاروبار بھی بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ طالبان حکومت کے اس سخت گیر اقدام کو ان کی حکومتی گرفت مضبوط کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس سے افغانستان کی عالمی سطح پر تنہائی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی ردِعمل اور خدشات
عالمی برادری اور ڈیجیٹل حقوق کی تنظیموں نے طالبان کے اس حکم کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، مواصلاتی رابطوں پر ایسی قدغنیں افغان معاشرے کو جدید دنیا سے دور لے جائیں گی اور عوام کے لیے معلومات تک رسائی کو تقریباً ناممکن بنا دیں گی۔