اگرچہ بھارت کو اپریل 2026 تک امریکی پابندیوں سے جزوی استثنیٰ حاصل ہے، لیکن خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ پابندیوں کے خدشات کے باعث نئی دہلی اس منصوبے میں مزید سرمایہ کاری کے معاملے میں محتاط نظر آ رہا ہے۔

March 5, 2026

آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کی خبروں پر عالمی سطح پر شکوک و شبہات برقرار ہیں۔ ایرانی حکومت کی خاموشی اس امکان کو تقویت دے رہا ہے کہ اصل شخصیت کے بجائے ان کا ہم شکل نشانہ بنا ہو سکتا ہے، جس کے باعث یہ معاملہ تاحال تہران کی وضاحت کا طلب گار ہے

March 5, 2026

جے ایف-17 تھنڈر پاکستان کی دفاعی برآمدی حکمتِ عملی کا محور بن گیا ہے، جس کا مقصد ٹیکسٹائل سے ہٹ کر اسلحہ سازی کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنا ہے

March 5, 2026

وزارتِ اطلاعات نے بندرگاہوں کی 10 مارچ تک بندش سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل نوٹیفکیشن کو جعلی اور من گھڑت قرار دے دیا ہے

March 5, 2026

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ترکمانستانی سفیر سے ملاقات میں توانائی، تجارت اور ٹاپئی گیس منصوبے سمیت سٹریٹجک تعاون بڑھانے پر زور دیا

March 5, 2026

و جی ڈی سی ایل نے کوہاٹ کے نشپا بلاک سے یومیہ 3765 بیرل تیل اور ایک کروڑ 12 لاکھ مکعب فٹ گیس کی بڑی دریافت کا اعلان کیا ہے

March 5, 2026

افغان حکومت کی دہشتگرد گروہوں کو مبینہ حمایت علاقائی امن کیلئے خطرہ بن گئی

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایک مسلم ہمسایہ ملک کے خلاف دہشتگردی کو برداشت کرنا، نہ صرف بین الاقوامی اصولوں بلکہ اسلامی اقدار سے بھی متصادم ہے۔ افغانستان اگر امن کا علمبردار بننا چاہتا ہے تو اسے عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہو سکے۔
افغان حکومت

تجزیہ کاروں کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے بعض گروہوں جیسے ٹی ٹی پی کے ساتھ نظریاتی ہمدردی پرانی ہے، تاہم بلوچ لبریشن آرمی جیسے گروہوں کو برداشت کرنا یا ان کی سرگرمیوں کو نظرانداز کرنا، نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

August 4, 2025

ترجمان دفتر خارجہ شفقت خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں افغانستان کی سرزمین سے پاکستان مخالف دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیمیں جیسے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) افغان سرزمین سے بیرونی حمایت کے ساتھ متحرک ہیں۔ ان کے بقول بھارت کی پشت پناہی سے متعلق بھی شواہد دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان تنظیموں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں اور افغان حکومت کی خاموشی یا عدم کارروائی ان خدشات کو مزید بڑھا رہی ہے۔

اسی حوالے سے امریکہ کی اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن کی حالیہ رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان اب بھی القاعدہ، داعش اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ طالبان نے اس رپورٹ کو “پروپیگنڈا” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، تاہم پاکستانی حکام نے اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے بعض گروہوں جیسے ٹی ٹی پی کے ساتھ نظریاتی ہمدردی پرانی ہے، تاہم بلوچ لبریشن آرمی جیسے گروہوں کو برداشت کرنا یا ان کی سرگرمیوں کو نظرانداز کرنا، نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی جیسے عناصر کو افغانستان میں پناہ دینا اور ان کے خلاف کارروائی نہ کرنا طالبان حکومت پر سوال اٹھاتا ہے۔ خاص طور پر جب ان گروہوں کے بھارتی خفیہ اداروں کے ساتھ ممکنہ رابطوں کی خبریں منظر عام پر آ رہی ہوں تو افغان قیادت کو ان عناصر کے خلاف سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ جیسے دھڑے پاکستان میں متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں، جن میں جدید امریکی ساختہ اسلحہ استعمال ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ پاکستان نے افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلحہ کی ترسیل روکنے اور ان گروہوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کیلئے مشترکہ طریقہ کار وضع کیا جائے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایک مسلم ہمسایہ ملک کے خلاف دہشتگردی کو برداشت کرنا، نہ صرف بین الاقوامی اصولوں بلکہ اسلامی اقدار سے بھی متصادم ہے۔ افغانستان اگر امن کا علمبردار بننا چاہتا ہے تو اسے عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہو سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب افغانستان کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ ان گروہوں کے خلاف موثر کارروائی کر کے یہ ثابت کرے کہ وہ علاقائی امن کا سچا حامی ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں خطے میں بداعتمادی اور کشیدگی بڑھنے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

دیکھیں: !! ہمسایہ کا سکھ اپنا سکھ اور ہمسایہ کا دکھ اپنا دکھ

متعلقہ مضامین

اگرچہ بھارت کو اپریل 2026 تک امریکی پابندیوں سے جزوی استثنیٰ حاصل ہے، لیکن خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ پابندیوں کے خدشات کے باعث نئی دہلی اس منصوبے میں مزید سرمایہ کاری کے معاملے میں محتاط نظر آ رہا ہے۔

March 5, 2026

آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کی خبروں پر عالمی سطح پر شکوک و شبہات برقرار ہیں۔ ایرانی حکومت کی خاموشی اس امکان کو تقویت دے رہا ہے کہ اصل شخصیت کے بجائے ان کا ہم شکل نشانہ بنا ہو سکتا ہے، جس کے باعث یہ معاملہ تاحال تہران کی وضاحت کا طلب گار ہے

March 5, 2026

جے ایف-17 تھنڈر پاکستان کی دفاعی برآمدی حکمتِ عملی کا محور بن گیا ہے، جس کا مقصد ٹیکسٹائل سے ہٹ کر اسلحہ سازی کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنا ہے

March 5, 2026

وزارتِ اطلاعات نے بندرگاہوں کی 10 مارچ تک بندش سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل نوٹیفکیشن کو جعلی اور من گھڑت قرار دے دیا ہے

March 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *