اسلام آباد: معروف تجزیہ کار اور محقق ڈاکٹر احمد خان نے اپنے ایک تحریری مقالے میں خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان کی قومی سلامتی اور پورے خطے کے استحکام کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری اور علاقائی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان طالبان کو ان کے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے وعدوں کا پابند بنائیں۔
بین الاقوامی تحریری پلیٹ فارم ون نیشن وائس پر شائع ہونے والے مقالے میں ڈاکٹر احمد خان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سرزمین سے متحرک دہشت گرد نیٹ ورکس نہ صرف پاکستان کی امن و امان کی صورتحال کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی امن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے امریکہ اور خطے کے اہم شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ افغان انتظامیہ پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ بڑھائیں تاکہ افغان طالبان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف حتمی اور قابلِ تصدیق کارروائی کرنے پر مجبور ہوں۔
مقالے میں اس بات پر خصوصی روشنی ڈالی گئی کہ دہشت گردی کا ختما صرف کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک عالمی چیلنج ہے۔ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ٹھوس سفارتی رابطوں، انٹیلی جنس کے تبادلے اور مشترکہ حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے فوری طور پر افغان پناہ گاہوں کے معاملے پر توجہ نہ دی تو یہ صورتحال پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔