قسط کے ملنے سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو تقویت ملے گی، درآمدات اور قرض کی ادائیگی آسان ہوگی جبکہ موسمیاتی منصوبوں کے لیے اضافی وسیلہ بھی دستیاب ہوگا۔ تاہم، آئی ایم ایف کے مطابق استحکام اور قرض کی فراہمی کے باوجود، اصلاحات جاری رکھنا جیسے مالی نظم و ضبط، ٹیکس بنیاد کی توسیع، سرکاری اداروں میں اصلاحات، توانائی شعبے کی بہتری اور موسمیاتی لچک ناگزیر ہیں۔

December 9, 2025

برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، جان جہانزیب کو 10 سال اور 8 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ اسرار نیازل کو 9 سال اور 10 ماہ قید کی سزا ملی۔ دونوں نوجوانوں نے عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔

December 9, 2025

واضح رہے کہ گلبدین حکمتیار نے 2016 میں افغان حکومت کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا اور گزشتہ چار سال کے دوران کابل میں سیاسی کردار ادا کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان میں سیاسی اختلاف رائے کے لیے گنجائش سکڑتی جا رہی ہے۔

December 8, 2025

قانت نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ وسیع تر مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے دیرپا بنیادوں پر بات چیت کریں، بصورتِ دیگر علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں پر سے اعتماد ختم ہونا شروع ہو جائے گا۔

December 8, 2025

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان ہمسایہ ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی، تاریخی اور سماجی طور پر بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ امن اور خوشحالی کی راہیں کھل سکیں۔

December 8, 2025

تفریح ضروری ہے مگر زندگی اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔۔۔

اگر آپ بھی تفریح کیلئے جانا چایتے ہیں تو ضرور جائیں مگر خدارا اپنی، اپنے اہلخانہ کی اور دوسروں کی زندگیوں سے نہ کھیلیں۔ کسی تجربہ کار گائیڈ کی خدمات حاصل کریں۔ ایسے مقامات سے دور رہیں جہاں حادثے کا خدشہ ہو۔ گاڑی کسی تجربہ کار ڈرائیور کے حوالے کریں۔ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور ایک سیلفی کیلئے جان کا سودا نہ کریں۔
سیاحت پاکستان

ذرا سی بے احتیاطی پورے خاندان کی زندگیاں نگل جاتی ہے۔ حال ہی میں سوات میں ایک خاندان کے 12 افراد کی موت اس کی تازہ مثال ہے۔ ایسے حادثات میں حکومت، مقامی انتظامیہ اور خود سیاح برابر کے قصور وار ہوتے ہیں۔

July 22, 2025

گلگت بلتستان کی بابو سر شاہراہ پر ایک افسوسناک حادثے میں 5 سے زیادہ سیاح ہلاک جبکہ 15 کے قریب لاپتہ ہیں۔ یہ واقعہ تیز بارش کے بعد آنے والے خطرناک سیلاب کے باعث پیش آیا جس میں بہت سی گاڑیاں بہہ گئیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر ایسے واقعات پیش کیوں آتے ہیں؟؟

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد پہاڑی علاقوں کا رخ کر لیتی ہے۔ اپنے اہلخانہ اور دوستوں کے ہمراہ تفریح کو جانے والے کئی لوگ تابوت میں واپس لوٹتتے ہیں۔ ذرا سی بے احتیاطی پورے خاندان کی زندگیاں نگل جاتی ہے۔ حال ہی میں سوات میں ایک خاندان کے 12 افراد کی موت اس کی تازہ مثال ہے۔ ایسے حادثات میں حکومت، مقامی انتظامیہ اور خود سیاح برابر کے قصور وار ہوتے ہیں۔

ایسے ٹوورز کیلئے منصوبہ بندی کے بغیر جانا تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ موسمی خالات، راستوں کی مشکلات اور جغرافیے سے لاعلمی آپ کو موت کے منہ میں دھکیل سکتی ہے۔ اکثر افراد جو ایسے سفر کیلئے کسی گائیڈ کی خدمات حاصل کرتے ہیں، وہ گائیڈ کے بارے میں بھی تحقیق کرنا پسند نہیں کرتے۔ کئی مرتبہ چند روپوں کے عوض ایسے گائیڈز لوگوں کی زندگیوں سے کھیل جاتے ہیں۔


اس کے علاوہ حکومت اور انتظامیہ کی غیر سنجیدگی، لوگوں کو راستوں اور موسمی حالات سے آگاہ نہ کرنا، مقامی انتظامیہ کے عملے کا ایسے مقامات پر موجود نہ ہونا، متعلقہ افراد کا غیر تربیت یافتہ ہونا اور سب سے بڑھ کر ایسے حادثات کی صورت میں فوری ریسکیو کا انتظام نہ کر پانا مقامی، صوبائی اور وفاقی حکومت کی سنگین ناکامی مانی جاتی ہے۔


اگر آپ بھی تفریح کیلئے جانا چایتے ہیں تو ضرور جائیں مگر خدارا اپنی، اپنے اہلخانہ کی اور دوسروں کی زندگیوں سے نہ کھیلیں۔ کسی تجربہ کار گائیڈ کی خدمات حاصل کریں۔ ایسے مقامات سے دور رہیں جہاں حادثے کا خدشہ ہو۔ گاڑی کسی تجربہ کار ڈرائیور کے حوالے کریں۔ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور ایک سیلفی کیلئے جان کا سودا نہ کریں۔ تفریح ضروری ہے مگر زندگی اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔۔۔۔!!

دیکھیں: بابو سر شاہراہ پر بارشوں سے آیا سیلابی ریلہ 3 زندگیاں بہا لے گیا

متعلقہ مضامین

قسط کے ملنے سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو تقویت ملے گی، درآمدات اور قرض کی ادائیگی آسان ہوگی جبکہ موسمیاتی منصوبوں کے لیے اضافی وسیلہ بھی دستیاب ہوگا۔ تاہم، آئی ایم ایف کے مطابق استحکام اور قرض کی فراہمی کے باوجود، اصلاحات جاری رکھنا جیسے مالی نظم و ضبط، ٹیکس بنیاد کی توسیع، سرکاری اداروں میں اصلاحات، توانائی شعبے کی بہتری اور موسمیاتی لچک ناگزیر ہیں۔

December 9, 2025

برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، جان جہانزیب کو 10 سال اور 8 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ اسرار نیازل کو 9 سال اور 10 ماہ قید کی سزا ملی۔ دونوں نوجوانوں نے عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔

December 9, 2025

واضح رہے کہ گلبدین حکمتیار نے 2016 میں افغان حکومت کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا اور گزشتہ چار سال کے دوران کابل میں سیاسی کردار ادا کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان میں سیاسی اختلاف رائے کے لیے گنجائش سکڑتی جا رہی ہے۔

December 8, 2025

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *