امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور جاری جنگ بہت جلد اختتام پذیر ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کی غرض سے ایک عارضی معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران سے تصادم کے باعث امریکی اسلحے کے ذخائر میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خبروں میں کوئی سچائی نہیں ہے اور امریکی دفاعی صلاحیات مکمل طور پر برقرار ہیں۔
اسی کے ساتھ امریکی صدر نے اپنے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ کسی بھی قسم کے اختلافات یا اندرونی کشیدگی کی اطلاعات کی بھی تردید کی اور واضح کیا کہ انتظامیہ میں مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔
دوسری جانب عرب میڈیا نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے جاری سفارتی کوششیں اس وقت تعطل کا شکار ہیں۔ رپورٹس کے مطابق حالات کے پیش نظر ایرانی حکام نے ملک بھر بالخصوص دارالحکومت تہران میں داخلی سکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کر دیے ہیں۔
دیکھیے: ایران سے بات چیت جاری ہے، دیکھیں کیا ہوتا ہے: صدر ٹرمپ