امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی کارروائیوں میں ایرانی قیادت کی پہلی اور دوسری سطح کو ختم کر دیا گیا ہے۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو بھاری نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور امریکی حملے آج رات بھی جاری رہیں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تہران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت ایک آزمائش تھی جس پر عمل کرنے میں ایرانی انتظامیہ ناکام رہی۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی فضائیہ مسلسل تیسرے دن بھی کارروائیاں کر رہی ہے جس کا مقصد ایرانی عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنانا اور آبنائے ہرمز میں تہران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔
امریکی صدر نے مستقبل میں نئے معاہدے کا امکان مسترد نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف ناکہ بندی، فضائی بمباری کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی بحری جہازوں اور ان کے تجارتی شراکت داروں پر سخت پابندیاں لاگو کی جا سکتی ہیں۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے امریکہ کا کردار بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ تحفظ پانے والے ممالک کو اس کے اخراجات ادا کرنے چاہئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے کھلا رکھا جائے گا لیکن ایرانی جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی۔