ٹرمپ انتظامیہ نے ملک کی عسکری قیادت میں ایک تاریخی اور بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ تازہ ترین پیش رفت میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک ہی دن میں 12 سے زائد اعلیٰ ترین جنرلز کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا ہے۔ برطرف کیے جانے والوں میں امریکی آرمی کے زمینی افواج کے کمانڈرز بھی شامل ہیں، جس نے واشنگٹن کے دفاعی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
پینٹاگون نے باقاعدہ طور پر اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ امریکی آرمی کے چیف آف اسٹاف رینڈی جارج اپنے عہدے سے الگ ہو گئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق جنرل رینڈی جارج کی مدتِ ملازمت میں ابھی ایک سال باقی تھا، تاہم انہیں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے حکم پر فوری طور پر برطرف کیا گیا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد فوج کے ڈھانچے کو صدر ٹرمپ کے وژن کے مطابق ڈھالنا اور نئی عسکری حکمتِ عملی کو نافذ کرنا ہے۔
سیاسی و انتظامی تبدیلیاں
عسکری قیادت کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ نے سویلین انتظامیہ میں بھی سخت فیصلے کیے ہیں۔ اٹارنی جنرل پام بونڈی کو ان کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے، جن کی جگہ صدر کے سابق ذاتی وکیل ٹوڈ بلانچ کو قائم مقام اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پام بونڈی کی برطرفی کی وجوہات میں ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان اور جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق فائلوں کا تنازع شامل ہے۔
اعلیٰ حکام میں بے چینی
واشنگٹن میں ہونے والی ان پے در پے برطرفیوں نے امریکی کابینہ اور ایف بی آئی جیسے حساس اداروں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل اور سیکریٹری آرمی ڈینیئل ڈرسکل سمیت کئی دیگر اہم شخصیات کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشانات لگ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ اقتدار کے آغاز میں ہی تمام اہم اداروں پر اپنی گرفت مکمل طور پر مضبوط کرنے کے لیے یہ سخت اقدامات کر رہے ہیں۔
دیکھیے: جنگ کے پھیلاؤ کے سنگین اثرات: ایران کی حکمت عملی، خلیجی خطہ اور عالمی خدشات